اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںفوج بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کو مداخلت اور پاکستان توڑنے کی کوششوں ..

فوج بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کو مداخلت اور پاکستان توڑنے کی کوششوں کا ذمہ دار قرار دیکر اپنے فرض سے عہدہ برأ نہیں ہوسکتی ، فوج اور ایجنسیاں ہوش کے ناخن لیں ، حکومت اپنے رویے اور نااہلیوں پر غور کرے ، بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے حکومتی کارکردگی صفر سے آگے نہیں بڑھ سکی، بلوچستان بارود کے ڈھیر پر کھڑاہے ، عوام مسئلے کے حل کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھائیں،امیر جماعت اسلامی منورحسن کی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔3جنوری۔ 2013ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہاہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کی مداخلت اور پاکستان توڑنے کی کوششوں کا ذمہ دار قرار دے کر پاکستانی فوج اپنے فرض سے عہدہ برأ نہیں ہوسکتی ۔ فوج اور ایجنسیوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور جن جن حوالوں سے ان کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں ان کا ایسا تسلی بخش جواب دیناچاہیے جس پر بلوچ عوام اور پوری قوم مکمل اعتماد کر سکے ۔

حکومت بھی اپنے رویے اور نااہلیوں پر غور کرے ۔ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے حکومتی کارکردگی صفر سے آگے نہیں بڑھ سکی ۔ بلوچستان جو پاکستان کا سب سے بڑا اورو سائل سے مالا مال صوبہ ہے ، بارود کے ڈھیر پر کھڑاہے جہاں سے کسی وقت بھی ایسی خبر آسکتی ہے جو پوری قوم پر بجلی بن کر گرے گی اور سب کو تڑپا دے گی ۔

(خبر جاری ہے)

پورے ملک کے عوام کو اس بارے میں مکمل طور پر آگا ہ اور مسئلے کے حل کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھاناچاہیے ۔

وہ جمعرات کو منصورہ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وفدمیں نواب غوث بخش باروزئی ، ڈاکٹر جہانزیب قائم مقام صدر بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) ہزارہ پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ ، حافظ حسین احمد جے یوآئی (ف) لیاقت شاہوانی ، طاہر بزنجو اورجنرل(ر) عبدالقادر بلوچ ایم این اے نواز لیگ شامل تھے ۔

ملاقات کے موقع پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، حافظ محمد ادریس ، امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی محمد انور نیازی بھی موجود تھے۔ سید منورحسن نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچستان کے عوام کا ہی نہیں ، بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے پوری قوم کو متحد اور حکمرانوں کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ اگر حکمران گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے رہے اور مختلف پیکیجوں کے نام پر صوبے کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہے تو یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے الجھتا جائے گا۔

اس موقع پر نواب غوث بخش باروزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے سید منورحسن سے ملاقات کر کے انہیں مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیاہے ۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیاہے اور مسئلے کے حل کے لیے جماعت اسلامی کی کوششوں کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی نے اپنا فرض انتہائی ذمہ داری سے ادا کیاہے ۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے مثبت رویے ، قومی سوچ اور فکر سے ہم بہت متاثر ہوئے ہیں ۔

ہمیں یقین ہے کہ یہی وہ جماعت ہے جو بلوچستان کے مسئلے کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کر سکتی ہے ۔ سید منورحسن نے ہمارے مسائل مشکلات اور پریشانیوں کو پوری توجہ اور ہمدردی سے نہ صرف سنا بلکہ ہمیں ان مسائل سے نکالنے کے لیے بھر پور ساتھ دینے اور موثر کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر ہم سید منورحسن اور جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں