شہبازشریف خوش ہیں کہ لندن کا ایک دورہ بن گیا، عارف نظامی

شہبازشریف کا مضبوط کیس ہے، ڈیلی میل کی برطانیہ میں کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے، رپورٹر نے جس طرح اسٹوری کو بنایا ہے، وہ سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے، اور شہزاد اکبرہی ان کا سورس لگتا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات جولائی 20:39

شہبازشریف خوش ہیں کہ لندن کا ایک دورہ بن گیا، عارف نظامی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 جولائی 2019ء) سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ہے کہ شہبازشریف خوش ہیں کہ لندن کا ایک دورہ بن گیا، شہبازشریف کا مضبوط کیس ہے،ڈیلی میل کی برطانیہ میں کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے،رپورٹر نے جس طرح اسٹوری کو بنایا ہے، وہ سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے، اور شہزاد اکبرہی ان کا سورس لگتا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ کہ چیئرمین سینیٹ جا رہا ہے، چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن اکٹھی ہوگئی ہے۔

اپوزیشن نے جو کرنا ہے وہ کررہی ہیں۔25 جولائی کو اپوزیشن جماعتیں یوم سیاہ منا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی قرارداد واپس لینے کی خبریں پلانٹڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں سے ایک فریق حکومتی اداروں کے ساتھ ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

لیکن فی الحال تو ایسا نہیں ہے۔

ن لیگ اور پیپلزپارٹی اکٹھے رہے تو حکومت کیلئے مشکل ہوگی۔عارف نظامی نے کہا کہ حالات یہ ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ عمران خان کو اس بار چیئرمین سینیٹ کی کوئی زیادہ پروا ہے۔ ان کو کیا فرق پڑے گا اگر چیئرمین سینیٹ کی سیٹ چلی بھی جاتی ہے۔ کیونکہ ویسے بھی کوئی قانون سازی تووہاں نہیں ہورہی ہے، جبکہ اس وقت بھی وہاں اپوزیشن کی اکثریت ہے۔ عارف نظامی نے کہا کہ شہزاد اکبر ایک بات توٹھیک کہتے ہیں کہ خود تواپنے سارے فیملی ممبران کو محفوظ کرلیا باقی لوگوں پر چھترول ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف بڑے پراعتماد ہیں، خوش بھی ہیں کہ ان کا لندن کا ایک دورہ بن گیا ہے۔ شہبازشریف کا مضبوط کیس ہے۔ ڈیلی میل کی برطانیہ میں کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے۔ وکی پیڈیا اس کو سورس کے طور پر استعمال نہیں کرتا۔ رپورٹر نے جس طرح اسٹوری کو بنایا ہے، وہ سوچاسمجھامنصوبہ لگتا ہے،اور شہزاد اکبرہی ان کا سورس لگتا ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ ٹھیک بھی ہو۔شہبازشریف توکہتے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments