بھارتی فورسز رات کو گھروں میں داخل ہوجاتی ہیں، شہلا رشید

قابض فورسز لڑکیوں کو حراست میں لے کرگھروں میں توڑ پھوڑ کرتی ہیں،گھروں پر چھاپے کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کردیا جاتا ہے،نہتے کشمیریوں پرتشدد کی چیخوں کو پورے علاقے میں سنایاجاتا ہے،کشمیری سماجی کارکن شہلا رشید کا بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اگست 23:46

بھارتی فورسز رات کو گھروں میں داخل ہوجاتی ہیں، شہلا رشید
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اگست 2019ء) کشمیری سماجی کارکن شہلا رشید نے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی کہانی بیان کردی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز رات کوگھروں میں داخل ہوجاتی ہیں،قابض فورسز لڑکیوں کو حراست میں لے کرگھروں میں توڑ پھوڑ کرتی ہیں،گھروں پر چھاپے کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کردیا جاتا ہے،نہتے کشمیریوں پرتشدد کی چیخوں کو پورے علاقے میں سنایاجاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوورسیز بھارتی شہریوں نے مودی سرکارکے اقدامات کے خلاف کھل کر بولنا شروع کردیا۔ کشمیری سماجی کارکن شہلا رشید نے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے کہاکہ سری نگر سمیت وادی میں کرفیولگا ہواہے، کسی کو نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہے۔مقامی اخبارات پر بھی پابندی عائد ہے۔

(جاری ہے)

مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو خوراک دستیاب ہے اور نہ بیماروں کو ادویات دستیاب ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی پولیس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں،وادی میں سارے اختیارات پیراملٹری فورسز کے پاس ہیں۔ایک سی پی آر ایف اہلکار جس ایس ایچ او کو چاہے تبدیل کروا سکتا ہے۔بھارتی فورسز رات کے اندھیرے میں گھروں میں داخل ہوتی ہیں۔قابض فورسز لڑکیوں کو حراست میں لے کرگھروں میں توڑ پھوڑ کرتی ہیں۔گھروں پر چھاپے کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کردیا جاتا ہے۔

شوپیاں کے آرمی کیمپ میں 4کشمیریوں کو بدترین تشدد کا شانہ بنایا گیا۔نہتے کشمیریوں کی چیخوں کو پورے علاقے میں سنایا جاتا رہا۔بھارتی فورسز کے اقدامات سے پورے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔اسی طرح لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر سمنترہ بوز نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کشمیریوں جیسی صورتحال کا سامنا ہوتا تومیں بھی بندوق اٹھا لیتا۔

مودی حکومت نے بھارتی وفاق کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا آرٹیکل 370ختم کرنا علامتی تھا۔صدارتی حکم نامے سے کئی عشروں تک کشمیریوں کے حقوق سلب کیے گئے۔مشاورت کے بغیر بھارتی حکومت کا فیصلہ وفاق پر بدنما داغ ہے۔دیکھنا ہوگا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس چیلنج سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments