مقبوضہ کشمیرکی صورتحال،انڈین ایڈمنسٹریشن سروس کے اعلیٰ آفیسر احتجاجاً مستعفی

کنان گوپی ناتھن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 20 دن سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، یہ ریاستی جارحیت ہے، اب استعفی کے بعد اپنی اظہار رائے کیلئے آزاد ہوں۔ بھارتی آفیسرکنان گوپی ناتھن کا استعفے تحریری بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اگست 20:30

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال،انڈین ایڈمنسٹریشن سروس کے اعلیٰ آفیسر احتجاجاً ..
لاہور(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اگست2019ء) مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرانڈین ایڈمنسٹریشن سروس کے اعلیٰ آفیسر احتجاجاً مستعفی ہوگئے،کنان گوپی ناتھن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں20 دن سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، یہ ریاستی جارحیت ہے، اب استعفی کے بعد اپنی اظہار رائے کیلئے آزاد ہوں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 170ختم کرکے مقبوضہ وادی میں طاقت کا استعمال، کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔

جس پرانڈین ایڈمنسٹریشن سروس صف اول کے کیرالہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسر کنان گوپی ناتھن احتجاجاً مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ کنان گوپی ناتھن نے اپنے استعفے میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں20 دن سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، یہ ریاستی جارحیت ہے۔

(جاری ہے)

لیکن میں سرکاری عہدہ رکھنے کے باعث ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند اور اپنی رائے کا اظہار نہیں کرسکتا تھا، اب میں نے استعفا دے دیا ہے۔

اب میں اظہار رائے کیلئے آزاد ہوں۔ کنان گوپی ناتھن نے کہا کہ یہ 70 کی دہائی ہے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر یمن ہے۔ آج کے دور میں کسی علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرکے ریاستی طاقت کے ذریعے نہیں چلایا جاسکتا۔ تشدد مسائل کا حل نہیں ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کے بعد پوری دنیا بھارت کے اقدام کے خلاف ہے ۔

سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد ثابت ہوگیا کہ مسئلہ کشمیرعالمی معاملہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں آج کرفیوکا21 واں روزہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکے باعث غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ ہے کہ مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر پراقوام متحدہ کی11قراردادیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی سرکار کے خلاف دھڑے بندیاں ہو چکیں ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کو عید نماز نہیں پڑھنے دی اور نماز جمعہ کے لیے مساجد میں تالے لگا دیے گئے، مساجد کی تالا بندی سے بھارت کی اقلیتی نسل کشی کا چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام کی جدو جہد ضرور رنگ لائے گی اور کشمیری عوام آزادی کی نعمت سے مالامال ہو گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments