وزیراعلیٰ پنجاب کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے

انہیں صوبے میں گورننس کے معاملات بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بار تو صرف ڈرایا گیا ہے، اگلی بار گیم الٹ جائے گی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ ستمبر 11:06

وزیراعلیٰ پنجاب کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) : وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ صوبے بھر میں گورننس کے معاملات ٹھیک نہ ہونے پر انہیں بے جا تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ بارہا سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کی خبریں بھی سامنے آئیں ۔ سردار عثمان بزدار کے حوالے سے کالم نگار عمران یعقوب نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا کہ اب سے ایک مرتبہ پھر پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کی افواہیں گردش میں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے دو انتہائی قریبی ساتھی عثمان بزدار کی کابینہ سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل کی نجی محفلوں میں گفتگو کے بعد پنجاب میں افواہوں کا بازار گرم ہوا۔

(جاری ہے)

شہباز گل کا اعتماد بھی دیدنی تھا۔ بعد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد شہباز گل کو پریس کانفرنس کرنا پڑی کہ عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے جسے بزدار پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ دے۔

شہباز گل کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہی تھا عثمان بزدار کا کلہ مضبوط ہے۔ اس پریس کانفرنس کے چند ہی دن بعد شہباز گل کو کابینہ چھوڑنا پڑی۔ اب خبریں ہیں انہیں وفاق میں کوئی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ایک طرح سے انہیں پنجاب بھی چھوڑنا پڑے گا۔ اب اس کہانی میں کون استعمال ہوا اور کس نے استعمال کیا؟ اس کا ثبوت تو آنے والے دنوں میں ملے گا لیکن اگر شہباز گل کو وفاق میں کھپایا جاتا ہے تو یہ اشارہ ہو گا کہ شہباز گل بھی کسی ڈیوٹی پر تھے۔

اگر شہباز گل کی کوئی ڈیوٹی وفاق کی طرف سے لگی تھی تو یہ ایک اور اشارہ ہو گا۔ ''وسیم اکرم پلس'' کو ایک سخت وارننگ دی گئی ہے کہ وہ صوبے میں گورننس کے معاملات بہتر بنائیں ورنہ اس بار تو صرف ڈرایا گیا ہے، اگلی بار گیم الٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پنجاب میں پولیس تشدد اور ہلاکتوں کی ویڈیوز ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی گئیں۔

اب بھی یہ معاملہ سرد نہیں پڑا بلکہ اس کا رخ براہ راست پنجاب حکومت اور عثمان بزدار کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیٹر ہیڈ پران کے بھائی کا لکھا رقعہ منظر عام پر آتا ہے تو کبھی ان کے کسی عزیز کی پوسٹنگ اور ترقی کے بارے میں غیرمصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان تصور کیے جانے والے میڈیا پرسنز کی توپوں کا رخ بھی اب پنجاب حکومت کی طرف ہے۔

وسیم اکرم پلس کے گن گانے والوں کو اب ان کی خرابیاں نظر آنے لگی ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر جوڑ توڑ تو چل رہا ہے، مجموعی منظرنامہ بھی اب یک طرفہ طور پر حکومت کے حق میں نہیں رہا۔ میڈیا کو مثبت رپورٹنگ کا کہنے والے بھی اب پہلے جیسی مداخلت کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدالتی شخصیات کے بیانات اور سیاسی انجینیئرنگ کے لیے احتساب کی باتیں بھی موڈ اور ہوا کا رخ بدلنے کے اشارے دے رہے ہیں۔

ایک سال سے زائد کے عرصہ میں تبدیلی سرکار کی کارکردگی کسی کے لیے متاثر کن نہیں رہی بلکہ ان کے ووٹر اور انہیں آگے لانے والے، دونوں طبقات ہی مایوس نظر آ رہے ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے منظرنامہ واضح ہونا شروع ہو جائے گا۔ اب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو بھی گراؤنڈ پر کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments