مصر کے عوام نے سڑکوں پر پُرتشدد مظاہرے

صدر جنرل السیسی سے استعفا کا مطالبہ

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار ستمبر 06:46

مصر کے عوام نے سڑکوں پر پُرتشدد مظاہرے
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2019ء)   طاقت کا نشہ ایسا ہے کہ ہر کوئی یہ نشہ کرنا چاہتاہے،کوئی چھوٹا موٹا افسر بن کر رعب جھاڑنا چاہتا ہے کوئی گھر کا سربراہ بن کر فیملی ممبرز کو ڈانٹنا چاہتا ہے اور کوئی پورے ملک پر اقتدار کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ہر کوئی اپنی اپنی خواہش کو ’جامہ‘پہنانے کے لیے اپنے تئیں کوششوں میں مصروف ہوتا ہے۔

مصر کے موجودہ صدر جنرل السیسی نے بھی آج سے لگ بھگ 6سال پہلے اُس وقت کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار ہتھیا لیا تھااور آج اس کے اقتدار کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی ہزاروں مظاہرین ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں جو مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

قاہرہ سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں مظاہرین صدر سیسی سے اقتدار چھوڑنے اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ سادہ لباس میں موجود اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب مظاہرین کو قاہرہ کے مشہور تحریر اسکوائر جانے سے روکا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مصر میں بعض میڈیا ہاؤسز کے رپورٹنگ کرنے پر بھی پابندی عائد کیے جانے کی خبریں زیرگردش ہیں جب کہ متعدد صحافیوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔خودساختہ جلا وطن مصری بزنس مین اور اداکار محمد علی کی جانب سے صدر السیسی پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور محمد علی کے مطالبے پر عوام صدر کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جب کہ مصری صدر نے اپنے اوپر عائد الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ اگر صدر السیسی استعفے کا اعلان نہیں کرتے تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔مصر کے موجودہ صدر اور سابق آرمی چیف عبدالفتح السیسی نے 2013 میں ملک کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔جس نے منتخب صدر کی حکومت کے تختہ الٹ دیا تھا آج وہ خود عوام کے جذبات اور احتجاج کے سامنے لرز رہا ہے۔فی الحال تو بزور طاقت جنرل السیسی ہجوم کے پرتشدد مظاہروں کو کچلنے کی کوشش میں مصروف ہے مگر اس کی حکومت بچتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments