مولانا فضل الرحمن ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ کو لیکر چل رہے ہیں‘ فردوس عاشق اعوان

احتجاج مولانا فضل الرحمان کا حق ہے مگر وقت غلط ہے ،ہوش کے ناخن لیںاور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنیکی سازشوں سے باز رہیں اقتدار کی محرومی والے لوگ مولانا کیساتھ کھڑے ہیں،پاکستان سے محبت کرنیوالے کبھی انکے ذاتی ایجنڈے کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئینگے دنیا پاکستان کو اکنامکس فرنٹ پر اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے‘ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات کی اپٹما میں پریس کانفرنس

بدھ اکتوبر 23:16

مولانا فضل الرحمن ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2019ء) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اصولی کی بجائے چندہ وصولی کی سیاست کر رہے ہیں اورضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ کو لیکر چل رہے ہیں،احتجاج مولانا فضل الرحمان کا حق ہے مگر وقت غلط ہے اس لئے انہیں ہوش کے ناخن لیںاور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں کی بجائے وزیر اعظم کے ترقی اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں ،اس وقت اقتدار کی محرومی والے لوگ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑے ہیں،پاکستان سے محبت کرنے والے کبھی بھی ذاتی ایجنڈے کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئیں گے،دنیا پاکستان کو اکنامکس فرنٹ پر اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے،پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلنے سے مزدور کا چولہا چلتا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،وزیر اعظم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے اقدامات کئے ،جواب میں اپٹما نے بھی حکومت اور وزیر اعظم کو مایوس نہیں کیا،وزیر اعظم نے چین کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتوں میں باہمی تجارت، سی پیک کی اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی بات ہوئی ،چائنہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار پر بھی اعتماد کیا اظہار کیا ہے ،سی پیک کے تحت لگنے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن( اپٹما )کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز ،چیئرمین ٹیکسٹائل انڈسٹری ٹاسک فورس احسن بشیر سمیت دیگر بھی موجو د تھے ۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ ملک کو گلے سڑے نظام سے نجات دلانے کے لیے اصلاحات اور بڑی سرجری درکار تھی ،جب اسٹیٹس کو کو چیلنج کرکے اصلاحات لائی جائیں تو مشکلات پیش آتی ہیں،ایسے حالات میں چٹان جیسا حوصلہ لے کر اپنے ارادوں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔

وزیر اعظم پاکستان نے صنعتوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کرکے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے جو اقدامات کئے آج تاجر برادری بھی انہیں سراہا رہی ہے ،موجودہ حکومت نے بیمار صنعتوں کو نئے جذبے کے ساتھ بحال کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے ۔انہوں نے کہا کہ جب صنعت آگے بڑھتی ہے تو غریب کے گھر میں چولہا جلتا ہے اور اس کے فوائد مزدور تک پہنچتے ہیں جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا ہے ۔

وزیر اعظم ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لائے ،موجودہ حکومت نے امپورٹ کی حوصلہ شکنی کی جبکہ ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے تمام اقدامات کئے جس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں صنعت کو جو سہولیات دی جارہی ہیں ہم نے دو قدم آگے بڑھ کر صنعت کی بحالی کیلئے سہولیات فراہم کیں ۔

اپٹما نے حکومت کو مایوس نہیں کیا بلکہ حکومت کی جانب سے دی جانیوالی مراعات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو خوشحال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے دورہ چین میں چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں میں باہمی تجارت، سی پیک کی اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کرفیو کے خاتمہ کی بھی بات ہوئی ۔

چین نے پاکستان کے افغانستان میں کردار پر بھی اعتماد کیا اظہار کیا ہے ۔سی پیک کے تحت لگنے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ آج وہ اپٹما میں یہ باور کرانے آئی ہیں کہ وزیر اعظم آپ لوگوں کے ترجمان ہیں اور ہر اجلاس میں تاجروں کے مسائل پر مختلف محکموں کو احکامات جاری کرتے رہتے ہیں ۔اپٹما کے عہدیداروںنے اپوزیشن سمیت ان لوگوں کے منہ بند کر دیئے ہیں جو آئے روز مایوسی والی باتیں کرکے حکومت مخالف بیانات داغتے رہتے ہیں کہ صنعت خسارے میں جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اپٹما نے بڑے واضح انداز میں بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ٹیکسٹائل کی انڈسٹری نے 13 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہے جبکہ آئندہ سالوں کیلئے جو ہدف مقرر کئے ہیں اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا بلکہ لاکھوں روزگار بھی پیدا ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے روشن مستقبل کی طرف اہم قدم اٹھایا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی نئے پاکستان کی اصل تصویر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ،ایک سیاسی اور ایک قومی بیانیہ ہے جب دونوں کو یکجا کریں تو پاکستان کا بیانیہ بنتا ہے ۔مولانا فضل الرحمن اس وقت بے وقت کی راگنی راگ رہے ہیں ،وہ مدارس کے طلباء کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ موجودہ حکومت مدارس اصلاحات کے ذریعے مدرسہ کے طالبعلم کو پاکستان کا طاقتور اور قیمتی اثاثہ بنانا چا ہتی ۔

مولانا فضل الرحمن اصول کی بجائے چندہ وصول کی سیاست کر رہے ہیں۔پاکستان کی باشعور عوام ان کے ذاتی ایجنڈے کا ساتھ نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سوچنے والی بات ہے کہ بھارتی ٹی وی چینل مولانا فضل الرحمان کے بیانیہ کو نشر کر رہے ہیں ،احتجاج مولانا کا حق ہے تاہم احتجاج کا وقت ٹھیک نہیں ہے ،مولانا ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں کی بجائے وزیر اعظم کے ترقی اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ ان کا یہ اقدام پاکستان کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کے مترادف ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے کسی کی ذات کو فوکس کرکے ٹارگٹ نہیں کیا بلکہ وہ ایک مائنڈ سیٹ جو ہر شعبہ میں موجود ہے جو کرپشن اور عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیںکو تبدیل کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ،اس لئے وزیر اعظم اداروں کی بحالی کی بات بھی کرتے ہیں ۔ایک اورسوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہے تاہم مولانا ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عنا پر مبنی بیانیہ کو لے کر چل رہے ،ہیںان کااصول پر مبنی کوئی مطالبہ نہیں نہیں ہے وہ حالیہ انتخابات کو ایک سال بعد جعلی کہہ رہے ہیں تاہم انہوں نے نہ الیکشن کمیشن اور نہ ہی کسی عدالت سے رجوع کیا ہے ۔

اپٹما کے گروپ لیڈر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک بڑی صنعت ہے جس سے ایک کروڑ لوگ وابستہ ہیں اور آج ہمیں بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری رجسٹرڈ 106 کمپنیوں نے ایک سال میں 32 فیصد ایکسپورٹ میں اضافہ کیا ۔13 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ میں سے ایک ارب ڈالر منافع کمایا جبکہ حکومت کو 40 ار ب روپے ٹیکس ادا کیا ۔ہم پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو 26 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں جس سے مزید30 لاکھ نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments