شہباز شریف کا نواز شریف کو جوابی خط

شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے اور اس خط میں ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ حامد میر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر اکتوبر 11:12

شہباز شریف کا نواز شریف کو جوابی خط
(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 اکتوبر 2019ء) :مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے آزادی مارچ سے متعلق شہباز شریف کو خط لکھا تھا جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ کہ آپ جامع پروگرام ترتیب دے کرباقاعدہ اعلان کریں۔سیاسی مبصرین کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان آزادی مارچ کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے اور شہباز شریف اس مارچ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ حکومت کے خلاف اسمبلیوں میں احتجاجی تحریک چلانی چاہئیے۔تاہم اب سینئیر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ مجھے پتہ چلا کہ مولانا فضل الرحمن لاہور میں ہیں اور شہباز شریف نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

کچھ صحافیوں کے لیے یہ بڑی پیش رفت تھی لیکن میرے لیے کوئی سرپرائز نہیں تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ شہباز شریف وہی کریں گے جو نواز شریف کا آخری فیصلہ ہو گا۔

کچھ پرانے دوست پوچھنے لگے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا تو کیا ہو گا؟ میرے پاس سوال کا جواب تو موجود تھا لیکن میں نے تجویز پیش کی کہ یہ سوال آپ بنفس مولانا صاحب سے خود پوچھ لیں تو بہتر ہے اور جب یہ مولانا سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ایسی صورت میں احتجاج پورے پاکستان میں پھیل جائے گا اور ہم پاکستان کی کم از کم 18شاہراہیں بند کر دیں گے۔

اگلے روز شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔وہ مولانا کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے بہت مطمئن تھے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ شہباز شریف نے بھی اپنے بھائی نواز شریف کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے اوت اس خط میں ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ قائد ن لیگ اورسابق وزیر اعظم نوازشریف کے شہباز شریف کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق قائد ن لیگ نوازشریف نے پارٹی صدر شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ آپ جامع پروگرام ترتیب دے کرباقاعدہ اعلان کریں۔ ن لیگ کے رہنماء اور کارکن آزادی مارچ کو کامیاب بنائیں۔نوازشریف نے کہا کہ یہ کھڑا ہونے کا وقت ہے۔ ہر مصلحت کو ایک طرف رکھ کراپنا حق منوانے کا وقت ہے۔اب اپنے ووٹ کی عزت بحال کرنے کا وقت ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments