قدرت کا معجزہ جو سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا

دوسری منزل سے گرنے والا معصوم بچہ جسے کوئی چوٹ بھی نہ آئی

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اکتوبر 06:34

قدرت کا معجزہ جو سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا
مدھیہ پردیش ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2019ء)   جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،اس جملے کے حقیقی واقعات آئے روز ہماری آنکھوں کے سامنے پیش آتے رہتے ہیں۔انہی واقعات کو دیکھ کر ہی تو انسان کا ایسی طاقت اور قدرت کاملہ پر یقین مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔محیرالعقول اور ناقابل یقین واقعات جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ظاہر سی بات ہے کہ کائنات کی عظیم ترین اور طاقتور ہستی ہی ہو سکتی ہے۔

نظام کائنات چلانے والی اللہ تعالیٰ کی ذات اکثر انسانوں کو ایسے معجزات سے دیدہ ور کرتی ہے کہ جہاں دیکھنے والے مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔گزشتہ روز بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر کسی بھی انسان کا یقین پختہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 3 سالہ بچہ دوسری منزل کی بالکونی سے گر کر معجزاتی طور پر محفوظ رہا ۔

ایک چھوٹا سا بچہ جس کی ہڈیاں بھی اتنی مضبوط نہیں ہوتیں کہ زمین پر گرنے سے وہ محفوظ رہ سکیں مگرمالک کائنات اس کے لیے ایسا بندوبست کر دیتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں تین سالہ بچہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دوسری منزل کی بالکونی پر کھیلنے کے دوران پھسل کر نیچے گلی میں گرگیا مگر معجزاتی طور پر اس کی جان بچ گئی اور اسے کوئی خاص چوٹ بھی نہیں آئی۔


 3 سالہ بچہ 35 فٹ بلندی پر گھر کی بالکونی میں کھیلتے ہوئے نیچے گرا تاہم معجزانہ طورپر عین اسی وقت ایک سائیکل رکشہ وہاں سے گزر رہا تھا اور خوش قسمتی سے بچہ نرم اور آرام دہ سیٹ پر آکر گرا اور محفوظ رہا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ سارا منظر محفوظ ہوگیا جس نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص سائیکل رکشہ کے ساتھ گلی میں داخل ہوتا ہے اور جیسے ہی اس گھر کے دروازے کے قریب پہنچتا ہے تو اچانک ایک بچہ اوپر سے نیچے رکشے کی پچھلی سیٹ پرآگرتا ہے۔رکشہ کے مالک نے فوری طور پر بچے کو گود میں اٹھایا اس وقت تک گھر کے دیگر افراد بھی باہر آگئے اور بچے کو خوشی سے چومنے لگے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments