ہم کب تک کشمیر ایشو پر بھارت سے متعلق خاموش رہیں گے

امریکی پارلیمنٹ میں ممبران کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسیوں پر برس پڑے

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ اکتوبر 06:52

ہم کب تک کشمیر ایشو پر بھارت سے متعلق خاموش رہیں گے
واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2019ء)   کشمیر کی آواز عالمی سطح پر وزیراعظم عمران خان نے کچھ اس شدومد سے اٹھائی کہ اس کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ میں کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیاں ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیتی نظر آتی ہیں کہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے حوالے سے امریکہ اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہا۔

گزشتہ روز ایک بار پھر وزرا خارجہ کی میٹنگ میں کشمیر کے حوالے سے موضوع زیر بحث آیا۔امریکا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے وادی میں حالات معمول پر لانے کا مطالبہ کردیا۔ امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بیشتر قانون سازوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر سوالات اٹھائے۔

(جاری ہے)

جنوبی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ بھارت کے وادی کشمیر میں اقدامات کے اثرات کے حوالے سے امریکا بدستور خدشات کا شکار ہے۔انہوں نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ 'امریکا نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کرے اور انٹرنیٹ و موبائل فون سمیت تمام سروسز بحال کرے۔'ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکا کو کشمیر کے مرکزی سیاسی رہنمائوں سمیت شہریوں کی حراست اور مقامی و غیر ملکی میڈیا کی کوریج کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر بھی تشویش ہے۔

کمیٹی کی نمائندہ و معروف خاتون ساز الہان عمر نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات، نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اسلام مخالف اقدامات کا ہی حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حراستی کیمپس قائم کیے جانے کی بھی رپورٹس ہیں، آسام میں تقریباً 20 لاکھ افراد رجسٹریشن کے متنازع عمل میں اپنی بھارتی شہریت ثابت نہیں کر پائے ہیں جن سے متعلق مودی کی حکومت کہہ رہی ہے کہ 'غیر قانونی' مہاجر ملک میں نہیں رہ سکتے۔

الہان عمر نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف خونی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اسی طرح روہنگیا کی نسل کشی کا آغاز ہوا۔'انہوں نے کمیٹی اراکین کے سامنے سوال اٹھایا کہ 'ہم کب تک بھارت سے متعلق خاموش رہیں گے؟ کیا ہمیں آسام کے مسلمانوں کو ان حراستی کیمپوں میں ڈالے جانے کا انتظار ہے؟'رواں برس 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدام کے ساتھ ہی پوری سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا نظر بندکرتے ہوئے وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جو کہ تاحال جاری ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments