خاتون میئر کو وعدے پورے نہ کرنے پر بال کاٹ کر گلیوں میں گھما ڈالا

میئر پر لال رنگ چھڑک کر اسے ننگے پاﺅں شہر کی گلیوں میں گھمایا گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ نومبر 06:19

خاتون میئر کو وعدے پورے نہ کرنے پر بال کاٹ کر گلیوں میں گھما ڈالا
نیٹ نیوز ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2019ء)   دنیا بھر میں روایتی سیاست دان جو کہ وعدے کرتے اور پھر مکر جاتے ہیں سے عوام بہت تنگ ہے۔اب اسے شعور کانام دیا جائے یا پھر عدم برداشت کا کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ایسے روایتی سیاستدانوں پر عوام نے ہلہ بولنااور اپنا غصہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔آئے دن کسی نا کسی ملک میں کسی سیاسی رہبر کو عوام تشددکانشانہ بناتے،منہ کالا کرتے یاپھر گلیوں میں گھماتے نظر آتے ہیں۔

مگر اب پہلی بار کسی خاتون سیاستدان کے ساتھ عوام نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے ننگے پیر شہر کی گلیوں میں گھمایا ہے۔جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں مشتعل شہریوں نے میئر کو پکڑ کر اس کے بال کاٹ دیے اور ننگے پاو¿ں 16 گھنٹے گلیوں میں گھمانے کے بعد پولیس کے حوالے کردیا۔

(جاری ہے)

بولیویا میں 20 اکتوبر کو متنازع صدارتی انتخابات ہوئے جس کے بعد اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام عائد کرکے ملک بھر میں مظاہرے شروع کردیے ہیں۔

پرتشدد احتجاج میں اب تک 3 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ احتجاج کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن سیاسی کارکنان 20 اکتوبر کے صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے۔ اس دوران ایک گروہ نے وینٹو شہر میں ایک پل پر دھرنا دے دیا۔دھرنے کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ ایک دوسرے علاقے میں صدر کے حامیوں کے ساتھ جھڑپ میں اپوزیشن کے 2 کارکنان ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاع سن کر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے صدر کی حامی مقامی میئر پر حملہ کردیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے خاتون میئر کے بال زبردستی کاٹے، اس پر لال رنگ چھڑک کر ننگے پائوں گلیوں میں گھمایا اور آخر میں زبردستی استعفا پر دستخط کروائے۔اس کے بعد مظاہرین نے خاتون میئر کو پولیس کے حوالے کردیا۔ اہلکاروں نے انہیں موٹر سائیکل پر بٹھاکر مظاہرین کے ہجوم سے نکالا اور اسپتال منتقل کردیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ خاتون میئر متنازع انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر کی حامی ہیں اور مظاہرین کی ہلاکت اس کی ایما پر ہوئی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments