آئی جی پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں پولیس ٹیموں کے فلیگ مارچ، سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی

ڈی پی اوز سمیت سینئر افسران کی زیر قیادت ہونے والے فلیگ مارچز میں ٹریفک پولیس، ایلیٹ فورس سمیت پولیس کی دیگر فارمیشنز نے بھی حصہ لیا

ہفتہ نومبر 15:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی ہدایت پر عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر عوام میںاحساس تحفظ کو فروغ دینے کے لئے صوبے کے تمام اضلاع میں ڈی پی اوز اور سی پی اوز کی زیر قیادت فلیگ مارچ ہوئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سے شروع ہونے والے ان مارچز میں پولیس افسران، پولیس موبائلز، ٹریفک پولیس اور ایلیٹ پولیس فورس سمیت پنجاب پولیس کی تمام فارمیشنز نے حصہ لیا ۔

مختلف شاہراہوں اور بازاروں سے گزرنے والے ان فلیگ مارچ کا مقصد عوام میں تحفظ کے احساس کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام دینا تھا کہ پنجاب پولیس پوری طاقت و وسائل کے ساتھ عوام کی حفاظت کیلئے مستعد اور ہائی الرٹ ہے تاکہ شہریوں میں احساس تحفظ کی فضا برقرار رہے اور وہ بلا خوف خطر عید میلاد البنی ﷺکے اجتماعات اور محافل میں شرکت کریں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پنجاب پولیس کی تمام فارمیشنز نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ پولیس کے افسران و اہلکار عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن عامہ کے قیام کیلئے پوری محنت و ایمانداری کے ساتھ فرائض سرانجام دیتے رہیں گے ۔ مزید براں آئی جی پنجاب کی ہدایت کے مطابق تمام اضلاع میں جشن عید میلادالنبی ﷺ کے مرکزی جلوسوں اور حساس محافل میلاد کی سیکیورٹی کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے ،واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کو شہریوں کی سیکیورٹی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ جلوس کے راستوں میں آنے والی اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکورٹی کے لئے بھی مناسب اقدامات کے ساتھ ساتھ حساس عبادت گاہوں، اہم عمارتوں اور بازاروں میں سادہ لباس میں کمانڈوز بھی تعینات کیے گئے ہیں ۔

عید میلاد النبی ﷺ کی محافل اور جلوسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اضلاع میں سیکورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ ٹریفک منیجمنٹ کے پلان بھی ترتیب دیئے گئے تاکہ شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں جبکہ ڈی پی اوز اور سی پی اوز کی زیر نگرانی محفل میلاد اور حساس عبادت گاہوں کے گردو نواح میں ہونے والے سرچ سویپ کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید تیز کر دیئے گئے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments