معاشرے میں امن اور برداشت کے کلچر کے فروغ کیلئے صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا،

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نو ر الحق قادری کا بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

ہفتہ فروری 00:03

لاہور۔21 فروری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 فروری2020ء) وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نو ر الحق قادری نے کہا ہے کہ تصوف ایک دوسرے سے محبت کرنا، نفرتوں کو ختم کرنا، بہترین اخلاق اور انسانیت کا احترام سکھاتا ہے ،ہمیں چاہئے کہ معاشرے میں امن اور برداشت کے کلچر کے فروغ کے لئے صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کریں ۔

وہ جامعہ پنجاب اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے اشترا ک سے’ مولانا رومی اورحضرت سلطان باہو‘ پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پروفاقی وزیر برائے سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد اختر، صدر گردوارہ سری گرو سنگھ سبھا گرمیت سنگھ ہنزارہ،وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادپروفیسر ڈاکٹر محمد علی، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ضیاء القیوم ، پنجاب یونیورسٹی پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ صاحبزادہ احمد علی،پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد قمر علی زیدی، ایران، پولینڈ، ترکی، برطانیہ سمیت ملک بھر سے مندوبین، فیکلٹی ممبران اور طلبائو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں پیر نور الحق قادری نے کہا کہ جس کا اخلاق جتنا بلند ہوگا وہ اتنا ہی بڑا صوفی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کی تعلیمات کا منبع حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کرام کی تعلیمات سے محبت کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نفرتوں کا وقت نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت اور کائنات کا توازن محبت اور عشق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی غلط ترجمانی کی جاتی ہے۔

ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے انسانیت کی قدر کرنا سکھائی اور انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کا بھی خیال رکھنا سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے دل جیتنے پر زور دیا۔ صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ سلطان باہو اور مولانا رومی کی تعلیمات صدیوں بعد بھی معروف ہیں جن پر عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کی تعلیمات سے اللہ کی اطاعت، حضرت محمد ﷺ سے محبت اور نفرتوں کو ختم کرنے کا پیغام ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھایا اور ان کا کلام ہمیں تقسیم نہیں ہونے دیتا۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کے کلام سے رواداری کو فروغ دینے کا پیغام ملتا ہے۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے صوفیا ء کا کے پیغام کو آگے بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں اس سلسلے میں بابا گورونانک چیئر، رومی چیئر اور ہیومن رائٹس چیئر بھی قائم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں کی تخلیق کا مقصد دوسروں کے ساتھ اچھا برتاو،ْ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بہترین بنائیں اور معاشرے میں انصاف قائم کریں۔ وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ مولانا رومی نے دوسرے انسانوں کی مدد کرنے کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلطان باہو ایک عظیم شاعر تھے اور ان کا پیغام ہے کہ علم وہی افضل ہے جس میں انسانیت کی محبت ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے خطے کے ادب ، ثقافت اور تہذیب پر فخر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیا ء کا فلسفہ ہمارے لئے علم و ترقی کا ذریعہ ہے۔ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ضیاء القیوم نے کہا کہ صوفیاء کے کلام میں زبردست فکر و فلسفہ پنہاں ہے اور ان کا کلام آج کے حالات کے مطابق معلوم ہوتا ہے جس سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

گرمیت سنگھ نے کہا کہ ہمارے صوفیاء نے ہمیں پیار کرنا سکھایا ہے۔ ان کا پیغام ہے کہ دل کو صاف کر کے سب کی خدمت کریں۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ ہم اپنی اصل کو تلاش کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ثقافت کو حقیقی معنوں میں بحال کرنا چاہتے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر مہمانوں میں یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments