دہلی پولیس کس کے حکم پر مسلمانوں کے خلاف ہندوانتہاپسندوں کی سرپرستی کررہی ہے؟

مودی پورے بھارت کو گجرات بنانا چاہتے ہیں‘فسادات پورے ملک میں پھیلتے نظر آرہے ہیں. تجزیہ میاں محمد ندیم

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ فروری 01:07

دہلی پولیس کس کے حکم پر مسلمانوں کے خلاف ہندوانتہاپسندوں کی سرپرستی ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 فروری۔2020ء) بھارتی دارالحکومت دہلی میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے مذہبی فسادات نے شہر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک دہائی میں ہونے والے سب سے زیادہ ہولناک فسادات ہیں.متنازع شہریت کے قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان معمولی جھڑپوں سے شروع ہونے والے فسادات نے یک لخت ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر لی او تیزی سے دارالحکومت کے گلی کوچوں اور جھونپڑ پٹیوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا.

(جاری ہے)

بھارتی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے اہم ترین راہنماءامیت شاہ کے زیر کنٹرول دہلی پولیس ہنگاموں میں انتہا پسند ہندوﺅں کے مسلح جتھوں نے شہر کی سڑکوں پر بلا روک ٹوک ہنگامہ آرائی کی مساجد، گھروں اور دکانوں پر حملہ کیا گیا، بعض اوقات پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کیا گیا تشدد سے پردہ ہٹانے والے صحافیوں کو آتش زنوں نے روکا اور ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا گیا.سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مسلح افراد زخمی مسلمانوں کو قومی ترانہ پڑھنے اور جے شری رام‘جے ہنونان اور جے کرشنا کے نعرے لگانے پر مجبور کرتے اور ایک نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ پیٹتے نظر آئے خوفزدہ مسلمان خاندان شہر کے مخلوط محلے چھوڑنے لگے ہیں.

مسلمانوں کے قتل عام عالمی برادی خاموش ہے جبکہ بھارت میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں بھی ا س پر خاموش ہیں ‘مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تنظیم اوآئی سی کا کوئی ہنگامی اجلاس طلب نہیں گیا تاہم او آئی سی کی جانب سے ٹوئٹرپر ایک مذمتی بیان جاری کرکے”فریقین“کو مل جل کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے.

اوآئی سی جسے فریقین کا معاملہ قرار دے رہی ہے خود بھارتی میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ اس قتل عام کو ہندوانتہا پسندوں کی یکطرفہ کاروائی قراردے رہے ہیں اور اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے کئی ایسی ویڈیوز سامنے آچکی ہیں جن سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دفاع کا حق بھی حاصل نہیں بلکہ ہندو انتہا پسندوں کو پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے.

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ دہلی ہنگاموں کا موازنہ ماضی میں ہونے والے بھارت کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات سے کیا جا رہا ہے 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ان کے سکھ محافظ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دارالحکومت میں سکھ مخالف مظاہروں میں تقریباً 3000 افراد مارے گئے تھے اندرا گاندھی نے سکھوں کی تحریک کوطاقت سے کچلنے کے لیے امرتسرمیں ان کے تیسرے بڑے مقدس گوردوارے گولڈن ٹیمپل پرفوجی کشی کا حکم دیا تھا جس میں سینکڑوں سکھ گولڈن ٹیمپل کا دفاع کرتے ہوئے مارے گئے تھے جس کے بعد بھارتی پنجاب اور پورے ملک میں سکھوں کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن کیا گیا تھا جس کا بدلہ لینے کے لیے طیش میں آکر بھارتی وزیراعظم کو ان کے سکھ باڈی گارڈ نے قتل کردیا تھا.

2002 میں گجرات میں ایک ٹرین میں لگنے والی آگ کے نتیجہ میں 60 ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد فسادات میں انتہا پسند ہندوﺅں نے ایک ہزار سے زائدمسلمانوں کو شہید کردیا تھا ان کے گھروں اور دکانوں کو لوٹنے کے بعد جلادیا گیا تھا وزیر اعظم مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ان کی مبینہ ہدایات پر گجرات پولیس نے فسادات میں آرایس ایس کے دہشت گردوں کا ساتھ دیا تھا‘ دلی ہائی کورٹ نے جو فسادات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے کہا ہے کہ وہ اپنے زیر نگرانی ایک اور 1984 نہیں ہونے دے سکتی ہے.

ادھر دہلی کی ہندو برادری کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ حملوں میں ملوث گیروے رنگ کے کپڑے پہنچے تلواریں‘برچھیاں‘ترشول اور نیزوں سے مسلح یہ لوگ کہاں سے آئے کیونکہ وہ بول چال سے دہلی کے نہیں لگتے‘اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ جو کہ آرایس ایس کے سرپرست ہیں ان کے حکم پر آرایس ایس کے غنڈوں کو پورے ملک سے دہلی میں اکھٹا کیا گیا ہے.براﺅن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اشوتوش ورشنے جنہوں نے بھارت میں بڑے پیمانے پر مذہبی تشدد پر تحقیق کی ہے کا خیال ہے کہ دلی کے فسادات بہت حد تک 1984 اور 2002 کی طرح ایک منظم قتل عام دکھائی دیتا ہے‘پروفیسر ورشنے کے مطابق منظم قتل عام اس وقت ہوتا ہے جب پولیس ہنگاموں کو روکنے کے لیے غیر جانبدارانہ طور پر کام نہیں کرتی اس وقت توجہ نہیں دیتی جب ہجوم ہنگامہ آرائی کر رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات مجرموں کی واضح طور پرمدد کرتی ہے.

دلی پولیس کی بے حسی پر ان کا کہنا ہے کہ یقیناً ابھی تشدد کی انتہا ماضی میں ہونے والے گجرات یا دہلی جیسے فسادات تک نہیں پہنچی ہماری تمام تر توانائیاں اس تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہونی چاِہیں.بھارتی تجزیہ کار جوشی کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں ملکی سلامتی کے بارے میں اس طرح کی پیش گوئی کرنا کہ جب بھارت ایک’ ’محفوظ ملک“ ہے پہلے سے موجود لسانی تفریق کو مزید وسعت دینا اور لوگوں کو شبہات میں ڈالنے کے مترادف ہے.دہلی کی انتخابی مہم میں وزیر اعظم مودی کی جماعت نے ایک متنازعہ نئے شہریت کے قانون، کشمیر کی خود مختاری کو ختم کرنے اور ایک نیا ہندو مندر بنانے کے لیے معاشرے کو تفریق کرنے مہم شروع کی‘پارٹی قائدین نے آزادانہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کی تھیں اور انھیں انتخابی حکام نے سنسر کیا تھا دہلی کے مسلم اکثریتی علاقے شاہین باغ میں خواتین کے ذریعہ شہریت کے قانون کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج کو بی جے پی کی مہم نے خاص طور پر نشانہ بنایا تھا جس میں پرامن مظاہرین کو ”غدار“ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی .بھانو جوشی کا کہنا ہے کہ اس مہم کے نتائج واٹس ایپ گروپس، فیس بک پیجز، اور گھرانوں میں شبہات اور نفرت پر مبنی گفتگو کے صورت میں سامنے آئے‘دلی کی نازک اور حساس صورتحال کبھی بھی بگڑنے میں صرف وقت حائل تھا.

بھارتی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ سلسلہ رکے گا بلکہ اس میں ہرآنے والے دن میں اضافہ ہوگا اور یہ فسادات پورے ملک میں پھیلنے کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت فسادات روکنے نہیں بلکہ ان کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو ایسے حالات میں یہ توقع رکھنا کہ حالات جلد معمول پر آجائیں گے محض ایک اچھا خیال تو ہوسکتا ہے مگر عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آرہا . دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں پر بھی حملے ہورہے ہیں مگر ان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں .

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments