گورنر پنجاب سے وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات ‘ سیاسی اور حکومتی امور سمیت دیگر ایشوز بارے بات چیت

آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے حکومت کہیں جانیوالی نہیں‘ پارلیمنٹ کے اندر ناکام ہونیوالی اپوزیشن اب باہر بھی ناکام ہوگی‘فیٹف کیلئے قانون سازی میں رکاوٹیں ڈالنے والی اپوزیشن ایکسپوز ہوچکی ہے‘ اے پی سی سے حکومت کو کوئی خطر ہ نہیں‘چوہدری محمدسرور حکومت ملک میں شفاف اور بلاتفر یق احتساب کو یقینی بنا رہی ہے‘ بر یگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ

ہفتہ ستمبر 17:19

گورنر پنجاب سے وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات ‘ سیاسی اور حکومتی امور سمیت ..
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 ستمبر2020ء) گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور سے وفاقی وزیر داخلہ بر یگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ہفتہ کے روز گور نر ہاؤ س لاہور میںملاقات کی‘ جس میں سیاسی اور حکومتی امور سمیت دیگر ایشوز کے بارے میں بات چیت کی گئی‘گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ آئینی مدت پوری ہونے سے ایک منٹ بھی پہلے حکومت کہیں جانیوالی نہیں‘پارلیمنٹ کے اندر ناکام ہونیوالی اپوزیشن اب باہر بھی ناکام ہی ہوگی۔

گورنر پنجاب نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف کیلئے قانون سازی میں رکاوٹیں ڈالنے والی اپوزیشن ایکسپوز ہوچکی ہے اور عوام بھی اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت کیساتھ کھڑے ہیں اس لیے کسی اے پی سی سے حکومت کو کوئی خطر ہ ہے اور نہ ہی حکومت کسی اے پی سی کے دباؤ میں آئے گی بلکہ ہم متحد ہوکر ملک وقوم کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔

(جاری ہے)

اٴْنہوں نے کہا کہ وزیرا عظم عمران خان صرف ملک وقوم کے مفاد کی بات کرتے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔

اٴْنہوں نے کہا کہ پانچ سال آئینی مدت پوری کر نا تحر یک انصاف کا جمہوری اور آئینی حق ہے اس لیے عام انتخابات 2023ء میں ہی ہوں گے اور مخالفین کو سڑکوں پر آنے کی بجائے ان انتخابات کا انتظار کر نا چاہیے۔گورنر نے کہا کہ احتساب ملک وقوم کی ترقی اور خوشحالی کیلئے لازم ہوچکا ہے۔ اٴْنہوں نے کہا کہ فیٹف کیلئے قانون سازی حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ بر یگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ حکومت ملک میں شفاف اور بلاتفر یق احتساب کو یقینی بنا رہی ہے۔ اٴْنہوں نے کہا کہ پہلی بار ملکی اداروں میں اصلاحات ہو رہی ہیں۔ اٴْنہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں پانچ سال حکومت کرنے کا مینڈ یٹ دیا ہے اور انشاء اللہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر ے گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments