وزیراعظم نے کابینہ ارکان کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی

کابینہ ارکان ،بیوروکریٹ اور افسران عسکری اداروں کے افسران سے ملاقاتیں نہیں کریں گے ، یہ 1973ء کے رولز آف بزنس کے منافی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ہدایت نامہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 20:49

وزیراعظم نے کابینہ ارکان کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔27 ستمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے، انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹ ، افسران اور کابینہ ارکان عسکری اداروں کے افسران سے ملاقاتیں نہیں کریں گے ،یہ 1973ء کے رولز آف بزنس کے منافی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر عائشہ بخش نے کہا کہ ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے کہ جس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ عسکری قیادت سے ملاقاتیں نہیں کریں گے۔

کیونکہ یہ 1973ء کے رولز آف بزنس کے منافی ہے،سیکشن 8اور 56 کا تذکرہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیوروکریٹ ، افسران اور کابینہ ارکان عسکری اداروں کے افسران سے ملاقاتیں نہیں کریں گے، اگر ملاقات کرنی ہوئی تو میرے علم میں لائی جائے۔

(جاری ہے)

جس پر وفاقی وزیر شیخ رشید نے پروگرام میں کہا کہ اگر وزیراعظم نے پابندی عائد کی ہے تو آئندہ وزیراعظم کے علم میں لاکر ملاقات کریں گے، اس میں کیا حرج ہے؟ وزیراعظم تک جب بات جائے گی تو وزیراعظم بات کو اپنے پاس ہی رکھیں گے ، 9 بجے کی خبروں میں تو بیان نہیں کریں گے؟میں کہتا ہوں کہ اگر اپنی فوج سے ملنا جرم ہے، تو پھر غیرملکی سفیروں سے بھی ملاقات نہ کی جائے۔

پھر وہ بھی جرم ہے، اصل مسئلہ وہاں خرابی کا ہے جب غیرملکی سفیروں سے بغیر اجازت ملاقات کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کبھی استعفیٰ نہیں دے گی، اس نے بڑی اچھی بات کی ہے، کہ نوازشریف آئیں اور ہم سے ملیں ، ہم آپ کے ہاتھ میں استعفے دیں گے، کیونکہ نہ نوازشریف نے آنا ہے اور نہ انہوں نے استعفے دینے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورٹ نے کیا ان کا باپ مارا ہے؟ جو عدالت کو عزت نہیں دینی، کورٹ نے باپ تو پیپلزپارٹی کا مارا تھا، وہ تو پھر بھی عدالتوں میں جارہے ہیں، یہ نوٹ کو عزت دیتے ہیں کورٹ کو عزت نہیں دیتے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments