ٹریفک پولیس میں 7 کروڑ 74 لاکھ روپے میگا اسکینڈل سامنے آگیا

آئی جی پنجاب نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن کو بھیج دیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر ستمبر 16:33

ٹریفک پولیس میں 7 کروڑ 74 لاکھ روپے میگا اسکینڈل سامنے آگیا
لاہورد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 ستمبر ۔2020ء) پنجاب ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں 7 کروڑ 74 لاکھ روپے مالیت کا ایک اور میگا اسکینڈل سامنے آگیا ہے‘ اس بدعنوانی کا علم محکمہ کے اکاﺅنٹس سے لگایا گیا جسے 2017-18 کے دوران اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر سر انجام دیا گیا تھا.

(جاری ہے)

اس وقت 21 گریڈ کے پولیس آفیسر فاروق مظہر محکمے کا سربراہ تھے جو اس وقت پولیس کی ایلیٹ فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں نجی ٹی وی کے مطابق دستیاب سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین بے ضابطگیاں، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کی خلاف ورزیوں، بے قاعدہ ادائیگیوں، الاﺅنسز سے زیادہ اور دوگنا وصولیی اور چھٹی کے بدلے پیسے لینے کا انکشاف کیا گیا.

آئی جی نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس بھیج دیا ہے تقریبا دو مہینوں میں محکمہ میں یہ دوسرا بدعنوانی کا اسکینڈل سامنے آیا ہے. اس سے قبل اے سی ای نے کیس درج کیا تھا کہ 2018-19 کے اکاو¿نٹس میں 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے اس وقت کے آئی جی پی شعیب دستگیر نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کو بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے اے سی ای کو بھیج دی تھی.

اس وقت کے 20 گریڈ کے آفیسر ڈاکٹر اختر عباس ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے ٹریفک پولیس کی سربراہی کی خدمات انجام دے رہے تھے اس اسکینڈل کے بعد تفتیشی افسران کے ایک پینل نے آئی جی پی کو یہ بھی سفارش کی تھی کہ وہ ڈاکٹر اختر عباس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کو کیس ارسال کریں. دلچسپ بات یہ ہے کہ فاروق مظہر کی ہدایت پر، جب وہ دوسری بار اضافی آئی جی ٹریفک پولیس کے طور پر تعینات تھے، 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کے غبن کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا سرکاری دستاویزات کے مطابق سابق آئی جی پی کی ہدایت پر پولیس کے انٹرنل آڈٹ برانچ نے یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک کے اکاﺅنٹس کا آڈٹ کیا تھا.

انکوائری رپورٹ کے مطابق آڈیٹرز نے دھوکہ دہی، غبن کے حوالے سے سرکاری خزانے کو 7 کروڑ 74 لاکھ روپے تک پہنچنے والے نقصانات سے متعلق 22 آڈٹ پیرا اٹھائے تھے 4 کروڑ 69 لاکھ روپے کا غبن پٹرولیم، تیل اور لبریکنٹس (پی او ایل) کے تحت بتایا گیا جبکہ دیگر میں آفس اسٹیشنری کی خریداری، پرنٹنگ اور اشاعت، ٹرانسپورٹ کی مرمت، مشینری، سازو سامان، فرنیچر کی خریداری اور چھٹی کے بدلے رقم کو دوبارہ وصول کرنا شامل ہے.

2018-19 کی انکوائری رپورٹ میں بھی چھٹی کے بدلے دو مرتبہ رقم وصول کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی انکوائری رپورٹ میں سابق اکاﺅنٹنٹ، وینڈرز اور اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس کے افسران سمیت ٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی رپورٹ کو منظوری کے بعد آئی جی پی نے انسداد بدعنوانی کے سربراہ کو مقدمہ کے اندراج اور ملزم افسران کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بھیج دیاتھا.

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments