غلام بن کر نہیں رہوں گا، اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں‘ نواز شریف

سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے دھرنوں کے دوران کہا نوازشریف استعفیٰ دیں،آدھی رات کو پیغام ملاستعفیٰ نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی،قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی وزیر اعظم نااہل، پاگل اورذہن خالی ہے، لانے والے پچھتا تو رہے ہوں گے ،وہی اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی ادا کروں گا ،گرفتار عاصم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا مگر شہباز شریف کو کر لیا گیا مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم کا لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب ْ نوازشریف کی تقریر سے عدلیہ، میڈیا، (ن) لیگ اور عوام کے موقف کو تقویت ملی ہے ‘مریم نواز کٹھ پتلی نظام مزید کٹھ پتلیوں کو جنم دیتاہے،ووٹ کسی اور کے نام ڈالا جاتاہے نکلتا کسی اور کے نام سے ہے‘اجلا س سے خطاب اکتوبرکو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کی کامیابی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی،مسلم لیگ کاڈیمو کریٹ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ہونے والے ہر طرح کے احتجاج میں بھرپور شرکت کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک صدارت کی ،پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک ،آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا گیا سی ای سی کانواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ،اپنی اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار کیا ، مریم نواز سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا نواز شریف نے پی ٹی آئی کے دھرنے کا پردہ چاک کر دیا ہے، امید ہے عوام باہر نکلیں گے‘ شاہد خاقان عباسی کی اجلاس کے بعد بریفنگ

بدھ ستمبر 23:30

غلام بن کر نہیں رہوں گا، اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں‘ نواز شریف
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدو سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستانی بن کر رہوں گاغلام بن کر نہیں، ان چیزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں،دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ہم ذلت کی زندگی نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے ،سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے ، ظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریف استعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے ،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے ،میں نے کہا استعفیٰ نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے،کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی،قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی ،تبدیلی ضرور آئے گی ،سلیکٹڈ وزیراعظم کو لے آئے ہیں جو نااہل اور پاگل آدمی ہے ،جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے ہیں آپ کو ہی جواب دینا ہوگا ،یہ شخص تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا ،پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اس کا جواب دینا ہوگا،روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی ادا کروں گا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانہوں نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں منعقدہ اجلاس میںشاہد خاقان عباسی،مریم نواز،احسن اقبال،راجہ ظفرالحق،رانا تنویر حسین،مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،طارق فضل چوہدری،عطاتارڑ ،برجیس طاہر سمیت دیگر سینئر ارکان موجود تھے۔

نواز شریف نے کہا کہ شہبازشریف مرد میدان،ان کی جرات و بہادری کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں،مجھے اپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی ،شہبازشریف کے ساتھ سلوک پر دکھی ہوں ،جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہمارے جذبے اور بڑھے ہیں،انشااللہ ہم اپنی جدوجہد مزید تیز کریں گے ،ہمیں اس پرفخر ہے کہ ہمارے ساتھی جرات سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں ،ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ نہیں ہوا ،شہبازشریف نے بے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے شہبازشریف کو سیلوٹ کرتا ہوں کہ انہوں نے دیانتداری سے قوم اور ملک کی خدمت کی ۔

شہبازشریف نے پنجاب میں دن رات محنت کرکے بجلی کے کارخانے لگائے ۔شہبازشریف، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی اور ٹیم کے سر یہ سہرا ہے ،اسحاق ڈار نے وسائل مہیا کئے، قوم کی خدمت پر اس ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ان سرکاری افسران کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے توانائی کی قلت ختم کرنے میں کردار ادا کیا،شہبازشریف مرد میدان ہیں، انہوں نے مشکلات کے سامنے سرنہیں جھکایا ،شہبازشریف نے ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا ،اپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی ۔

گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا لیکن گرفتار شہبازشریف کو کرلیاگیا ،عاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنالئی اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا ،عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ باطل کے خلاف کھڑے ہوں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، یہ ہمارے دین کی تلقین ہے ،مشکل کو برداشت کرکے کردار اد اکریں گے تو قوم کو تمام مصیبتوں سے نجات مل جائے گی،ان تمام چیزوں کا حساب دینا ہوگا، انشااللہ وہ وقت دور نہیں ۔

نواز شریف نے کہا کہ اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا ۔میں غلام بن کر نہیں رہوں گا، ان چیزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں،دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے ،تبدیلی ضرور آئے گی سلیکٹڈ وزیراعظم کو لے آئے ہیں جو نااہل اور پاگل آدمی ہے ،جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے ہیں آپ کو ہی جواب دینا ہوگا ۔

یہ شخص تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا ،پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اس کا جواب دینا ہوگا،روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی، ادا کروں گا ۔آپ کی مشاورت کا منتظر ہوں کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے ۔نواز شریف نے کہا کہ حافظ حفیظ الرحمن اور راجہ فاروق حیدر کو بھی بہت سلام کرتا ہوں ان کی رائے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکھر حیدرآباد کا موٹر وے کا ایک حصہ رہ گیا ہے،اگر دورانیہ مکمل ہونے دیاجاتا تو صورتحال آج کہیں مزید بہتر ہوتی ،چار سال کی مدت میں رکاوٹوں کے باوجود بھی ہم نے بھرپور کامیابیاں حاصل کیں ،دھرنوں کے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کو مکمل کیا ۔5.8 فیصد پر گروتھ ریٹ چھوڑ کر گئے تھے جو آج منفی ہوچکا ہے ۔ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو وائٹ میں لے کر آئے مصرف پنجاب نہیں بلوچستان میں بھی الحمداللہ ہم نے شاہراہیں بنائیں ،ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ تک شاہراہ زیرتعمیر ہے ،گوادر کو ترقی دی، شاہراہوں سے ملایا، سی پیک معمولی منصوبہ نہیں مہزارہ موٹر وے دیکھ لیں، ہم نے پورے پاکستان کو ترقی دی، کوئی امتیاز نہیں برتا ۔

احسن اقبال نے اس ضمن میں بہت کام کیا میں ان کی بھی تحسین کرتا ہوں۔سب کو معلوم ہے کہ ہم نے کتنی محنت، ایمانداری سے کاوشیں کیں اور ملک کو ترقی دی ۔انہوں نے کہا کہآج عوام کو مہنگائی سے کچل دیاگیا ہے، پاکستان کے عوام ہمارے دور میں سکھ کی زندگی گزار رہے تھے ،انہیں سستی اشیاء کو دستیاب تھیں، مہنگائی کا مسئلہ حل ہوگیا تھا ،آج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، بجلی، گیس کے بل ان پر بم بن کر گر رہے ہیں ،ہماری جدوجہد ذات کے لئے نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کے لئے ہے،ہمیں جدوجہد کرنا ہے کیونکہ بائیس کروڑ عوام کی مشکلات اور دکھوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

آج کے دور میں لوگ اپنی آمدن میں اخراجات پورے نہیں کرپارہے، یہ ظلم وزیادتی کی انتہاہے۔ عوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے ،لوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ،دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ،جان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں ،آج بتادے کوئی کہ کیسے عام آدمی زندگی اپنی گزر بسر کرے ،آٹے کی قیمت آسمان پر ہے، اوپر سے آٹا ناپید ہونے والا ہے کیونکہ گندم ہی امپورٹ ہی نہیں کی گئی،ہمارے دور میں گندم ایکسپورٹ ہوتی تھی، آج امپورٹ ہورہی ہے ،امپورٹ پر کثیر زرمبادلہ درکار ہوگا، یہ سرمایہ کس کی جیب سے آئے گا چینی کی قیمتیں دیکھ لیں، عوام کو کس طرح چینی کے لئے محتاج بنادیاگیا ہے ،شہبازشریف کو شاباش ہے کہ انہوں نے انتہائی دبائوکے باوجود چینی کی قیمت بڑھنے نہیں دی تھی ،ہم جب اقتدار میں آئے تھے تو 50 روپے کلو چینی تھی، اقتدار سے گئے تو چینی کی یہی قیمت تھی ،آج کوئی ہے جو ان مسائل کو دیکھی کوئی سوال پوچھے کوئی احتساب کری ۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے ،ظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریف استعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے ،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے ،میں نے کہاکہ استعفیٰ نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہی کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی اس بیان کا کیا مطلب ہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بار کے اجلاس میں کیا کہا کیا اس پر کوئی کارروائی ہوئی ۔

ہم حق اور سچ پر ہیں تو ہمیں ان مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ اور تامل نہیں ہونا چاہیے ۔ انتخابات دھاندلی ہوئی، کیا ہم اسے مان لیں میرا ضمیر نہیں مانتا ،انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہم اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں،آج پارلیمان نمائندے نہیں بلکہ کوئی اور چلارہا ہے، کوئی اور بتاتا ہے کہ کون سا بل لانا ہی کیا کرنا ہی یہ سب باتیں سوچنے والی ہیں ۔

صحافی کو شاباش ہے جس نے سوال پوچھا کہ جج سے ملنے کیوں آئے ہیں سوال صحیح پوچھے جارہے تھے، دل میں چور تھا، اس لئے جواب نہیں دیا، کتاب سے منہ چھپایا۔جج ارشد ملک نے تسلیم کرلیا کہ میں نے دبائومیں فیصلہ سنایا ۔جج ارشد ملک برطرف ہوگیا لیکن فیصلہ برقرار ہے، الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹی ایس کی دھاندلی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول نہیں کرسکتے ،کسی کا حق چھین کر کسی اور کی جھولی میں گرا دیاجائے، یہ ظلم ہے، قبول نہیں کرسکتے ۔

70 سال سے یہ سب چل رہا ہے، کیا ایسے ہی چلتے رہنے دیں، ہمارا فیصلہ کہ نہیں،اب ہمیں اس کا دوٹوک طورپر فیصلہ کرنا چاہیے ، عدالتوں پر دبائو ڈال کر مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں کیا ہم ایسے ہی یہ سب چلنے دیں اس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جائیں ۔پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپ بنادیاگیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے مجھے ہمیشہ کامیابی ملی ہے ،صرف دو بار پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہا ،مشرف کے دور میں جلاوطنی میں تھے تو پارلیمان کا رکن نہیں تھا،آج کے دور میں ایک بار پھر پارلیمان کا رکن نہیں ہوں۔

اپنی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، عزت پر سمجھوتہ کرکے سیاست نہیں ہوسکتی ،عزت نہ ہو تو پھر کون سی سیاست اور کیسی سیاست آج کا دن ان تمام سوالات پر سوچنے کا دن ہے ۔قوم کے تعاون اور دعائوں سے ایک مخلص شخص کو تین بار وزیراعظم بنایا ،قوم نے جیسے تین بار وزیراعظم منتخب کیا، اس شخص کے ساتھ یہ سلوک کیاگیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ملک میں کٹھ پتلی نظام مزید کٹھ پتلیوں کو جنم دیتاہے،ووٹ کسی اور کے نام ڈالا جاتاہے نکلتا کسی اور کے نام سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتی ہوں، شہبازشریف نے بھائی ہونے کے ساتھ سیاسی و ذاتی مشکلات کے باوجود پیغام دیا ہمارے قائد نوازشریف ہیں۔انہوںنے کہاکہ یقین ہے نوازشریف کی تقریر سے عدلیہ، میڈیا، (ن) لیگ اور عوام کے موقف کو تقویت ملی،نوازشریف کی تقریر کے بعد جس طرح کا آزادی اظہار حاصل ہوا اس کا کریڈٹ نوازشریف کو جاتاہے۔

قبل ازیںسی ای سی کے اجلاس میںپاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ہونے والے ہر طرح کے احتجاج میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11اکتوبرکو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کی کامیابی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، شہباز شریف کی گرفتاری قابل مذمت ہے لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے مسلم لیگ (ن) کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں منعقد ہوا جس کی نواز شریف نے بذریعہ ویڈیو لنک صدارت کی ۔ اجلاس میںشاہد خاقان عباسی،مریم نواز،احسن اقبال،راجہ ظفرالحق،رانا تنویر حسین،مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،طارق فضل چوہدری،عطاتارڑ ،برجیس طاہر سمیت دیگر سینئر ارکان موجود تھے۔اجلاس میں نیب کی کارروائیوں،شہباز شریف کی گرفتاری اورپی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا گیا ۔

اجلاس میں تمام رہنمائوں نے نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار کیا ۔اجلاس میں مریم نواز سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف نے ملکی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کیا ۔ آج ملک میں مہنگائی بد ترین سطح پر ہے ،معیشت تباہ ہو چکی ہے اورکوئی امید کی کرن باقی نہیں ہے ،مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے ، اگلے ہفتے مزید اہم فیصلے ہوں گے ، اجلاس میں اس پر بحث کی گئی ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہونے والی تحریک میں ہمارا کیا کردار ہوگا کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کا عزم ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے ، ہم نے آمریت کا مقابلہ کرنا ہے ۔

ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں آج ملک میں جمہوریت کے لئے جگہ تنگ کی جارہی ہے ، میڈیا کو دبایا جارہا ہے ،آج انسانی حقوق کو سلب کیا جارہا ہے ، دنیا میں آزادی بڑھ رہی ہے پاکستان میں آزادی کم ہو رہی ہے،دنیا ترقی کر رہی ہے پاکستان زوال پذیر ہے،یہ ایسے معاملات ہیں جس پر اپوزیشن خاموش نہیں رہ سکتی ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈ ی ایم کے پلیٹ فارم سے فیصلہ ہوا ہے کہ پہلا جلسہ کوئٹہ میں ہوگا جس کے بعد جلسے جلوس احتجاج ہوگا ریلیاں اورلانگ مارچ ہوگا ،پوری امید ہے کہ پاکستان کے عوام باہر نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی ای سی کے اجلاس میں تمام معاملات پر کھل کر بحث ہوئی ہے آج جمعرات کے روز سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا ،دونوں اجلاس میں فیصلے کی مکمل توثیق ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک میں مسلم لیگ (ن) ایک بڑے ستون کی صورت میں نظر آئے گی جو عوام اور پاکستان کو اس سلیکٹڈ،غیر جمہوری اورغیر اخلاقی حکومت سے نجات دلائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شہباز شریف کی گرفتاری پر بھی اظہار رائے کیا گیا ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ظلم قائم نہیں رہ سکتا،شہباز شریف گرفتار ہو گئے لیکن ان کی گرفتاری حکومت کی کمزوری اور بزدلی کا ثبوت ہے،وزیر اعظم کے ہتھکنڈوں کا ثبوت ہے ۔جب آپ نے ریفرنس فائل کیا ہے پھر کون گرفتاری کی کیا وجہ ہے ، اگر چیئرمین نیب غیر جانبدار ہیں تو بتائیں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری کیوں جاری کئے ، جب ٹرائل ہو رہا ہے تو پھر گرفتاری کا کیا جواز ہے ،یہ صرف جمہوریت اور اپوزیشن کو دبانے کی کوشش ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اپنا ڈھانچہ ہے جو فیصلے ہوں گے ان پر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے نواز شریف سے استعفیٰ طلب کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تاریخ کا حصہ ہے ، اس وقت جب دھرنا ہوا اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب نواز شریف سے کہا گیا کہ اپنا عہدہ چھوڑ کر چلے جائیں، منتخب آدمی عہدے چھوڑ کر نہیں جاتے ، یہ چیزیں ملک کے حق میں نہیں یہ جمہوریت کے حق میں نہیں ہے ،ملک کی ترقی ایسے ہی کاموں سے رکتی ہے ۔

آج پی ٹی آئی کے دھرنے کا پردہ آج چاک ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہی رائے ہے کہ میاں صاحب علاج کرا کے واپس آئیں باقی انکی اپنی مرضی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات تاریخ پر چھوڑے ہوئے تھے ،آج ان کو باہر نکالا گیا ہے یہ باتیں چھپی نہیں رہتیں ۔اسی لئے اے پی سی میں کہا تھاکہ ٹروتھ کمیشن بنا دیں اور یہ اس کے ذریعے کی ہتک او الزام لگانا مقصود نہیں ہے ، میں بھی حاضر ہو کر حقائق بتا دوں گا اورسب قوم کے سامنے آ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج لشکر کشی نہیں بلکہ یہ عوام کا احتجاج ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سپیکر اور حکومت چلاتی ہے ، حکومت کا رویہ سب نے دیکھ لیا ہے ، دو سال میں عوام کی تکلیف پر پارلیمنٹ میں ایک منٹ کے لئے بھی ڈسکشن نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بڑی واضح بات کی ہے کہ ہم حق کے ساتھ چلتے رہیں گے ، ہم مسائل حل کرنے کے لئے باہر نکلے ہیں اورہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ آنے والے دنوں میں سب کو نقشہ نظر آئے گا ، راتوں رات معجزہ نہیں ہوگا،حکومت کی جو دو سال کی تباہی ہے وہ ایک دن میں دور نہیں ہو گی ۔ ہم نکلے ہیں تو یقین ہے عوام بھی باہر نکلیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments