2004ء میں میرا بنایا کوڈ آف کنڈکٹ منظور ہوجاتا تو کسی کو قومی مفاد کے خلاف کچھ کہنے، لکھنے یا نشر کرنے کی جرات نہ ہوتی: چودھری شجاعت حسین

میں نے بطور وزیراعظم وزارت اطلاعات کواس بارے جامع سمری تیار کرنے اور تمام مکاتب فکر کے افراد اور صحافیوں پر مشتمل کمیٹی بنا نے کی ہدایت کی تھی

منگل اکتوبر 23:30

2004ء میں میرا بنایا کوڈ آف کنڈکٹ منظور ہوجاتا تو کسی کو قومی مفاد کے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اکتوبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز کے متعلق جولائی 2004ء میں میرے تجویز کئے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کو منظور کر کے اگر اس پرعمل کر لیا جاتا تو آج کسی کی جرات نہ ہوتی کہ وہ قومی مفاد کے خلاف کچھ نشر کر سکتا، میں نے بطور وزیر اعظم تجویز دی تھی کے وزارت اطلاعات جامع سمری تیار کرے اور ایک کمیٹی بنائے جس میں تمام مکتبہ فکر کے افراد اور جرنلسٹ بھی ہوں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کو اس کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو کمیٹی اس کے جرم کے مطابق سزا تجویز کرے اور پیمرا اس پر عملدرآمد کروائے جس کی سزا کی اپیل صرف سپریم کورٹ میں ہی ہو سکتی ہو۔

چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ میرا مقصد پچاس لاکھ فیس ہی نہیں بلکہ اس سمری کے ساتھ اپنی یہ تجویز بھی منظور کروانا تھا تاکہ کوئی بھی ملک کے نیشنل انٹرسٹ کے خلاف کسی قسم کی بھی بات کہہ، لکھ، یا نشر نہ کر سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کیبنٹ ڈویژن مجوزہ کوڈ آف کنڈکٹ کی منظوری کیلئے متعلقہ وزارت سے سمری پیش کروائے جس میں ٹی وی لائسنس وغیرہ کی بات نہ کی جائے بلکہ ہر شخص، پارٹی یا جو بھی نیشنل انٹرسٹ کے خلاف کسی چیز کی تشہیر کرے، چھاپے یا چھپوائے اس پر ان قوانین کا اطلاق ہو اور بعض ایسے انتہائی سنگین کیسز جن میں مکمل اور ٹھوس ثبوت ہوں تو بلا تفریق پھانسی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے، میں چاہتا تھا کہ میری وزارت عظمیٰ کے دوران یہ منظور ہو جاتے لیکن ایسانہ ہو سکا

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments