مفت وائی فائی کے چکر میں بیٹی کا نام وائی فائی کمپنی پررکھ دیا

شرط کے مطابق کمپنی 18برس تک لڑکی کو مفت وائی فائی فراہم کرے گی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اکتوبر 06:18

مفت وائی فائی کے چکر میں بیٹی کا نام وائی فائی کمپنی پررکھ دیا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2020ء) روز مرہ خبروں میں سے اکثر پریشان اور دکھی کر دینے والی ہوتی ہیں لیکن اکثر ایسے بھی ہوتا ہے کہ آپ کو ایسی خبر موصول ہوتی ہے کہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔یہ خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ والدین نے مفت وائی فائی لینے کے لیے اپنی بیٹی کا نام وائی فائی دینے والی کمپنی کے نام پر رکھ دیا۔

یہ خبر سوئٹزرلینڈ کے ایک شہر کی ہے جہاں کمپنی نے ایسی آفر دے رکھی تھی اور ایک خاندان نے اس آفر سے فائدہ بھی اٹھا لیا ہے۔ والدین نے مفت وائی فائی کے لیے اپنی نومولود بچی کا نام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے نام پر رکھ دیا ۔ اس بچی کو ٹوائی فائیاکے نام سے پکارا جائے گا۔اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے لوگ مفت وائی فائی کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بچی کے والد نے فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا جس میں وائی فائی اسٹارٹ اپ کمپنی ’ٹوائی فائی‘ نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی اپنے بچے کی پیدائش پر اس کا نام کمپنی کے نام پر رکھے گا اس بچے کو 18 سال تک مفت وائی فائی فراہم کیا جائے گا۔اشتہار میں لکھا تھا کہ بچے کی تصویر اور پیدائشی سند کی تصویر بھیجی جائے اور تصدیق کے بعد ٹوائی فائی اسے 18 برس تک مفت سروس فراہم کرے گی۔

دوسری جانب والد پہلے ہی سوچ چکے تھے کہ بیٹی کو ٹوافائیا اور بیٹا ہوا تو اس کا نام ٹوائی فس رکھا جائے گا۔والدین نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ وائی فائی کا ماہانہ خرچ 18 سال تک بچایا جائے گا اور اسے بالغ لڑکی کی تعلیم، کار یا کسی اور ضرورت پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی بچی کا درمیانی نام ٹوائی فائیا رکھا ہے۔ اگرچہ بچی کی والدہ اس نام سے مطمئن نہیں لیکن اب انہوں نے برتھ سرٹفیکیٹ پریہ نام لکھوالیا ہے۔

اس موقع پر ٹوائی فائی کے سربراہ فلپ فوش نے کہا ہے کہ اگر ان کی کمپنی دیوالیہ بھی ہوجائے تب بھی 18 برس وعدے کے تحت بچی کو وائی فائی مفت میں فراہم کیا جاتا رہے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ پیشکش اب بھی برقرار ہے اور دیگر افراد بھی اپنے بچوں کے نام ان کے ناموں پر رکھ کر اس پیشکش سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments