2025 تک دنیا بھر سے مزید 8 کروڑ افراد بے روز گار ہو جائیں گے

کورونا وبا کے باعث سبھی کاروباری ڈیجیٹلائز سسٹم کے تحت روبوٹ سے کام چلائیں گے

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ اکتوبر 06:08

2025  تک دنیا بھر سے مزید 8 کروڑ افراد بے روز گار ہو جائیں گے
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ٹیکنالوجی زندگی کے ہر میدان میں اپنے پنجے گاڑتی چلی جا رہی ہے۔کورنا وبا نے عام مزدور کی جہاں کمر توڑ کر رکھ دی تھی اب وہیں ایک اور پریشان کن خبر بھی سنائی دے رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید کروڑوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں دنیا بھر میں 40 کروڑ سے زائد ملازمتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کے امکانات ہیں۔

وہیں تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ 5 سال میں وبا کے باعث ملازمتوں میں کام کی تبدیلی کے باعث 8 کروڑ 50 لاکھ انسان ملازمین کی جگہ روبوٹ لے لیں گے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی جانب سے حال ہی میں شائع کی جانے والی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلے پانچ سال میں 8 کروڑ 50 لاکھ انسان مزدوروں کی جگہ روبوٹ مزدور لے لیں گے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق عالمی فورم کی جانب سے دنیا بھر کے 300 بڑے اداروں اور کمپنیوں میں کیے جانے والے سروے سے پتا چلا کہ ہر 5 میں سے 4 ادارے اپنے کام کو ڈیجیٹلائیز کرنے کے خواہاں ہیں۔یعنی ہر پانچ میں سے 4 اداروں کی خواہش ہے کہ بیماریوں اور دیگر آفتوں کی وجہ سے انسان مزدروں پر اکتفا کرنے کے بجائے روبوٹ کی خدمات حاصل کریں۔عالمی اکنامک فورم کے مطابق کورونا کی وبا سے قبل 2007 اور 2008 کے معاشی بحران کے بعد ہی کمپنیوں نے انسانوں کے بجائے روبوٹس اور مشینوں سے کام لینا شروع کردیا تھا۔

تاہم کورونا کے بعد کام کی نوعیت تبدیل ہونے کے بعد اگلے 5 سال یعنی 2025 تک دنیا بھر میں 8 کروڑ 50 لاکھ انسانوں کی جگہ روبوٹ یا مشینیں لے لیں گی۔جن شعبوں میں انسانوں کی جگہ روبوٹ یا مشینیں لے لیں گی، ان میں ڈیٹا انٹری آپریٹر، ایڈمنسٹریٹو سیکریٹریز، اکاونٹس اینڈ آڈٹ، کسٹمر سروس ورکرز، آپریشنل منیجر اور اسٹاک ریکارڈر منیجر سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔

مذکورہ شعبوں کے علاوہ بھی دیگر کئی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے انسانوں کی جگہ روبوٹس کو تعینات کیا جائے گا اور اس ضمن میں کاروباری کمپنیوں اور اداروں نے خود کو تیار بھی کرلیا۔ تاہم اسی عرصے میں انسانوں کی 9 کروڑ نوکریاں بھی نکلنے کی امید ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 تک ڈیٹا اینالسٹ، اسٹریٹجی اسپیشلسٹ، بزنس ڈیولپمنٹ پروفیشنل، انفارمیشن سیکیورٹی اینالسٹ اور سافٹ ویئر ڈیولپرز سمیت دیگر شعبوں میں خاص انسانوں کی 9 کروڑ آسامیاں بھی پیدا ہوں گی۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ انسان اور روبوٹ جب اہلیت کے مقابلے پر پرکھے جائیں گے تو ایزیکیوشن لیول پر کس کی پرفارمنس بہتر ہو گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments