اسٹیبلشمنٹ نے طے کرلیا، شریف خاندان سیاست میں نہیں آسکتا

جب یہ آتے ہیں بلدیاتی اختیارات نہیں دیتے، اپنی جماعتوں میں بھی الیکشن نہیں کرواتے، اور پیسے لے کر ٹکٹ دیتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف سکیورٹی رسک بن گئے ہیں، مریم نواز کو مرکزی لیڈر بنانا نوازشریف کا مقصد ہے۔سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید کا تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 20:02

اسٹیبلشمنٹ نے طے کرلیا، شریف خاندان سیاست میں نہیں آسکتا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اکتوبر2020ء) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے طے کرلیا، شریف خاندان سیاست میں نہیں آسکتا، جب یہ آتے ہیں بلدیاتی اختیارات نہیں دیتے، اپنی جماعتوں میں بھی الیکشن نہیں کرواتے، اور پیسے لے کر ٹکٹ دیتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف سکیورٹی رسک بن گئے ہیں، مریم نواز کو مرکزی لیڈر بنانا نوازشریف کا مقصد ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کو فون کیا گیا او ر کہا گیا کہ پولیس والوں سے کہیں کہ استعفے نہ دیں، چیزیں واضح ہونا شروع ہوگئی ہیں۔بلاول بھٹو کو جو فون گیا اس کے کچھ نتائج سامنے آرہے ہیں، بلاول بھٹو بڑا محتاط ہوگیا ہے، گلگت بلتستان الیکشن کے بارے میں بات کی اور اندازہ تھا کہ جیتنے والے پی ٹی آئی میں چلے جائیں گے، تھوڑی سی سیٹیں پیپلزپارٹی لے گی اور ن لیگ غائب ہوجائے گی۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی نے کہا کہ بالکل نہیں بڑا ٹف مقابلہ ہوگا۔ اس سے اشارہ دیا گیا کہ اسٹیبشلمنٹ مداخلت نہیں کرے گی۔ کوئٹہ جلسہ بڑا ہوجائے گا، جے یوآئی ف اور بلوچستان کی جماعتیں ہیں ، جلسہ تو بڑا ہوجائے گا۔ لیکن ایک بڑا واضح پیغام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے طے کرلیا ہے کہ شریف خاندان سیاست میں نہیں آسکتا۔جب یہ آتے ہیں بلدیاتی اختیارات نہیں دیتے، اپنی جماعتوں میں بھی الیکشن نہیں کرواتے، اور پیسے لے کر ٹکٹ دیتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف سکیورٹی رسک بن گئے ہیں۔

ن لیگ نے پی ڈی ایم بنانے کی سرتوڑ کوشش کی اس کا مقصد ایک ہے، نوازشریف تو واپس نہیں آئے گا، لیکن مریم نواز کو مرکزی لیڈر بنانا نوازشریف کا مقصد ہے، لیڈر وہ بن رہی ہے۔شہبازشریف کے راستے میں نوازشریف اور ان کی بھتیجی کھڑی ہے۔ یہ ممکن تھا کہ شہبازشریف اگر بھائی کے سائے سے نجات پا لیتے تو پارٹی ان کے گرد جمع ہوجاتی ۔ عمران خان بھی سب سمجھتا ہے اسی لیے مقدمے پر مقدمے بنا رہا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments