کیپٹن(ر)صفدراور رانا ثناءاللہ سمیت نون لیگی راہنماﺅں کی ضمانت میں توثیق

انسداد دہشت گری عدالت لاہور نے نیب دفتر ہنگامہ آرائی مقدمے میں محفوظ فیصلہ سنادیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اکتوبر 19:31

کیپٹن(ر)صفدراور رانا ثناءاللہ سمیت نون لیگی راہنماﺅں کی ضمانت میں ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اکتوبر ۔2020ء) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں رانا ثنا اللہ اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت تمام 30 ملزمان کی ضمانت کی توثیق کردی ہے. انسداد دہشت گری عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے مذکورہ مقدمے میں محفوظ شدہ فیصلہ سنایا عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل دینے کی ہدایت کی تو پراسیکیوشن نے مسلم لیگ (ر) رہنما کیپٹن (ر) صفدر اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی.

(جاری ہے)

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ تمام ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں اور نیب کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے انہوں نے اپنا استدلال پیش کیا کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان قصور وار ہیں اور مریم نواز کی پیشی کے موقع پر 10 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے جنہیں میاں منشی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا. ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے مریم نواز کو ایک انکوائری میں بیان دینے کے لیے طلب کیا تھا وہ آتی اور جواب دے جاتیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور دیگر جاتی امرا سے ہی حملے کی پلاننگ کے تحت نکلے انہوں نے مزید کہا کہ 28 اگست کو مریم نواز کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں اور پولیس نے تفتیش سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی ہے جس میں تمام ملزمان قصور وار ہیں.

ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہا کہ وقوعہ سے پتھر بھی قبضے میں لیے گئے ہیں اور نیب کے گیٹ کے ساتھ بھی کچھ آفس ہیں جن کے شیشے بھی حملے میں ٹوٹے تھے ایڈیشنل پراسیکیوٹرنے کہا کہ مریم نواز اور دیگر کی ویڈیوز اور تصاویر بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جبکہ 37 پولیس اور نیب کے افسران کے 161 کے بیان ریکارڈ کیے گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ 4 مقامی افراد کے بیان کے مطابق حملے سے خوف و ہراس پھیل گیا تھا ایڈیشنل پراسیکیوٹرنے عدالت کو کہا کہ تمام ملزمان سے ریکوری کے لیے ان کی حراست درکار ہے جس پر نیب عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے استفسار کیا کہ اب کیا ریکوری کرنا ہے؟.

بعدازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رانا ثنااللہ، کیپٹن (ر) صفدرسمیت 30 ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے‘اس دوران فیصلہ آنے سے قبل ہی ملزمان عدالت سے جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ملزمان کو احاطہ عدالت سے نکلنے سے روک دیا. علاوہ ازیں ملزمان کی پولیس کے ساتھ دھیکم اپیل بھی ہوئی ملزمان کے وکلا کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ فیصلے سے قبل پولیس کیسے روک سکتی ہے تاہم انسداد دہشت گری عدالت کے مرکزی دروازے کو بند کر دیا گیا.

بعدازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں رانا ثنا اللہ اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت تمام 30 ملزمان کی ضمانت کی توثیق کردی. 13 اگست کو ضلع کچہری کی عدالت نے مریم نواز کی پیشی کے وقت نیب آفس پر پتھراﺅ اور لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے تمام گرفتار کارکنان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا عدالت نے پروسیکیوشن کے دلائل سننے کے بعد 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا فیصلہ سنادیا تھا.

خیال رہے کہ 11 اگست کو جب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز انکوائری کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے پہنچیں تو نیب دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں تصادم ہوا تھا اس جھڑپ کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور پولیس نے بھی آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان پر پتھراﺅ کیا، دونوں فریقین ایک دوسرے پر تصادم شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا تھا.

جس کے بعد پولیس نے ضلع کچہری کی عدالت میں 58 گرفتار کارکنان کو پیش کر کے ان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا11 اگست کی رات کو چونگ پولیس نے نیب کی شکایت پر مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے 300 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں 187 افراد کو قانون نافذ کرنے والوں اور نیب عہدیداروں پر حملہ کرنے اور نیب کی عمارت کو نقصان پہنچانے پر مقدمے میں نامزد کیا گیا.

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزمان میں نیب کے روز مرہ کے دفتری امور کو تباہ کیا اور کارِ سرکار میں مداخلت کی، یہ شرپسدانہ حرکت مریم صفدر ان کے شوہر صفدر اعوان کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جاتی عمرہ سے گاڑیوں میں پتھر بھر کے لائے گئے، مریم نواز کے اشتعال دلانے پر کارکنان کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمع ہوئے جسے پولیس نے منتشر ہونے کا حکم دیا لیکن کارکنان نے اپنے راہنماﺅں کی قیادت میں وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں پر پتھراﺅ کیا جس سے 13 اہلکار زخمی ہوئے.

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments