فیمینسٹ انقلاب مصر کے درودیوار ہلانے لگا

سارے ملک کی خواتین ہراسمنٹ کے خلاف سڑکوں پر آ گئیں

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اکتوبر 06:23

فیمینسٹ انقلاب مصر کے درودیوار ہلانے لگا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اکتوبر2020ء) ہراسمنٹ کسی ایک ملک کا ایشو نہیں بلکہ پسماندہ ممالک سے لے کر ترقی یافتہ ملک تک سبھی جگہ عورت کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔مگر اب عورتوں نے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی ہے۔مصر میں خواتین سڑکوں پر ہیں اور ایسالگتا ہے کہ فیمینسٹ انقلاب آنے کو ہے۔مصر میں خواتین اور لڑکیوں پر جنسی نوعیت کے حملے عام ہیں لیکن اب متاثرین کی جانب سے اس کے خلاف جو ردعمل سامنے آرہا ہے، وہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔

یہ اس ملک میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے جہاں خواتین اپنے کپڑے نئے سٹائل کے بجائے یہ دیکھ کر منتخب کرتی ہیں کہ کس لباس میں وہ زیادہ محفوظ رہیں گی۔برسوں سے پدر شاہی روایات، مذہب اور قدامات پسندی کے ماحول میں خواتین اس وقت زیادہ تر خاموش ہی رہتی ہیں جب انھیں جنسی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہاں متاثرہ خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کا رواج زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

اب خواتین اور لڑکیاں کئی دہائیوں سے اختیار کی گئی چپ توڑ رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والے حملوں کی کہانی بیان کر رہی ہیں، ایک دوسرے کو ہمت دے رہی ہیں اور انصاف کا تقاضہ کر رہی ہیں۔یہ رواں برس جولائی میں شروع ہوا جب ایک طالب علم احمد بسام ذکی کے خلاف اس قسم کے دعوئوں کو شیئر کیا گیا۔22 سالہ طالبہ نادین اشرف نے ’اسالٹ پولیس‘ کے نام سے ایک انسٹاگرام اکائونٹ بنایا اور یہاں خواتین کے پیغامات شیئر کیے جن میں وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ احمد بسام ذکی نے انھیں بلیک میل کیا، ان پر حملہ کیا، ہراساں کیا اور ان کا ریپ کیا۔

کچھ ہی دنوں میں بسام کو گرفتار کر لیا گیا اور اب وہ ان الزامات کے حوالے سے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر 18 برس سے کم عمر کی تین لڑکیوں پر جنسی حملہ کرنے اور انھیں دھمکانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور لڑکی کو بلیک میل کرنے کا الزام ہے۔اور وہ یہ الزامات مسترد کرتے ہیں۔لیکن نادین کے بنائے گئے اس انسٹا گرام اکائونٹ کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

نادین اس پر آنے والے ردعمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر بہت جذباتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی ہفتوں میں ملکی پارلیمان میں نیا قانون متعارف کروایا گیا جو خواتین کی شناخت کے تحفظ کے لیے تھا۔ یہ جنسی نوعیت کے جرائم کا شکار خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔رواں سال کے اوائل میں ملک میں اعلیٰ مذہبی ادارے جامعہ الازہر نے خواتین کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے کپڑے کسی جنسی حملے کا جواز نہیں۔جانے مانے نام، معروف شخصیات اور انفلوئینسرز بھی ان کے حمایت میں آگے بڑھے اور مردوں نے ان خواتین کی ہاں میں ہاں ملائی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments