طالب علم نے اکاؤنٹ ویریفائی ہونے کی خوشی میں وفاقی وزیر سے ایک ہفتے کی چھٹیاں مانگ لیں

آپ کا اکاؤنٹ ویریفائی ہو گیا ہے بطور ٹریٹ ہمیں ایک ہفتے کی چھٹیاں دیں،شفقت محمود نے صارف کی فرمائش پر دلچسپ ردعمل دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اکتوبر 15:57

طالب علم نے اکاؤنٹ ویریفائی ہونے کی خوشی میں وفاقی وزیر سے ایک ہفتے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر شفقت محمود کا ٹویٹر اکاؤنٹ  ویریفائی ہو چکا ہے جس کے بعد ایک صارف نے شفقت محمود سے ایک ہفتے کی چھٹی بطور ٹریٹ مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر شفقت نے ٹویٹر پر اپنے واحد اکاؤنٹ اور باقی تمام جعلی اکاؤنٹس کو رد کرنے کے لیے ایک ٹویٹ کیا۔انہوں نے کہا آخرکار ٹویٹر نے میرے اکاؤنٹ کی تصدیق کر دی۔

بہت لوگ میرے نام کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر غلط خبریں پھیلا رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب ان تمام لوگوں کی غلط فہمی ہو جائے گی اور پتہ چل جائے گا کہ کو سا اکاؤنٹ آفیشل ہے۔
شفقت محمود کے اس ٹویٹ پر وقاص نامی صارف نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ مبارک ہو سر اب تمام طلبہ کو اسی خوشی میں ایک ہفتے کی چھٹی بطور ٹریٹ ہی دے دیں،وفاقی وزیر کو صارف کا یہ کمنٹ پسند آیا جس کا انہوں ردعمل بھی دیا۔

(جاری ہے)

صارف کے اس مزاحیہ جواب میں انہوں نے ہنسنے والی ایموجیز بھیجیں۔
واضح رہے کہب شفقت محمود پاکستان تحریک انصاف کے متحرک رہنما ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت میں انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا۔وہ محکمہ تعلیم کے سربراہ کے طور پر بخوبی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔کورونا کی صورتحال کے دوران بھی تعلیمی اداروں کی صورتحال بذات خود مانیٹر کرتے رہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے تمام اساتذہ کو باقاعدگی سے تنخواہیں مل رہی ہیں، ڈیلی ویجز کا معاملہ الگ ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی اور دیگر کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجز ملازمین مستقل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس میں کچھ معاملات کا تعلق فیڈرل پبلک سروسز کمیشن سے بھی ہے، ہماری کوشش ہے کہ اس پر جلد سے جلد پیش رفت ہو۔

انہوں نے کہا کہ تمام اساتذہ کو تنخواہیں باقاعدگی کے ساتھ دی جا رہی ہیں، اگر کسی کو تنخواہ نہیں ملی تو اس کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بعد ازاں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے مذکورہ سوال متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments