دنیا کے ڈیڑھ ارب عوام کو ذہنی اذیت دینے کو بھی دہشت گردی قرار دیا جائے

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے باہر فرانسیسی پراڈکٹ کی لسٹ آویزاں کرے تاکہ عوام نہ خریدیں

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اکتوبر 06:16

دنیا کے ڈیڑھ ارب عوام کو ذہنی اذیت دینے کو بھی دہشت گردی قرار دیا جائے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اکتوبر2020ء) یہود کے عزائم کھل کر سامنے آنے لگے۔ایک طرف اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے امریکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو ایک کے بعد ایک کر کے آگے پیش کررہا ہے اور دوسری طرف فرانس جیسے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہانے والے ملک نے ہمیشہ کی طرح اب بھی نبی آخرالزماںﷺ کی ناموس پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارا ہے۔

جب سے فرانس میں آنحضور ﷺ کی ذات پر ناپاک حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تب سے ساری دنیا کے مسلمان متحد ہو چکے اور حضور نبی پاکﷺ کی ناموس کے آگے ڈٹ چکے ہیں۔فرانس کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ فرانسیسی پراڈکٹس کی بائیکاٹ کا سلوگن بھی سوشل میڈیا ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔اسی حوالے سے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کسی کو قتل کرنا دہشت گردی ہے اسی طرح دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلم کو ذہنی اذیت دینااور تکلیف پہنچانا بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے یورپی عدالت بھی بلاسفیمی کا قانون پاس کر چکی ہے اور اس قانون کے مطابق بھی نبی آخر الزماںﷺ کی شان میں گستاخی کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔لہٰذا فرانس کی موجودہ حرکت پر سب کو متحد ہوتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ہر مسلم ملک کو اپنے سفیر فرانس سے واپس بلا لینے چاہئیں اور ان کے سفرا کو ملک بدر کردینا چاہیے۔مفتی منیب الرحمٰن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فرانسیسی پراڈکٹس کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیے اور یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ڈپارٹمنٹل اسٹور کے باہر فرانسیسی پراڈکٹس کی لسٹ آویزاں کرے اور عوام کو آگاہی دے کہ وہ یہ پراڈکٹس نہ خریدے۔

انہوں نے کہا کہ بہترین بات یہ ہے کہ یہ ساری پراڈکٹس لگژری اور کاسمیٹکس ٹائپ ہیں یعنی ضرورت زندگی سے متعلق کوئی پراڈکٹ نہیں ہے اس لیے اگر ہم یہ پراڈکٹ نہیں بھی استعمال کریں گے تو کوئی ایشو نہیں ہے۔لہٰذا ہمیں حضورنبی پاک ﷺ کی ناموس کی خاطر اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور فرانس کا ہر سطح پر بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments