کورونا وائرس چین نہیں بلکہ انڈیا میں ایجاد ہوااوریہاں سے پھیلا

چین سے کورونا وائرس پھیلنے کا ایک بھی شواہد نہیں ملا،چینی ماہرین

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ نومبر 06:05

کورونا وائرس چین نہیں بلکہ انڈیا میں ایجاد ہوااوریہاں سے پھیلا
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 28 نومبر2020ء) کورونا وبا کی دوسری لہر دنیا بھر میں ا ٓچکی اور ماہرین اگلے برس تیسری لہر آنے کی خبر بھی دے رہے ہیںجبکہ اس کی ویکسین تیار کرنے سے متعلق مختلف کمپنیاں اور ممالک دعویٰ کررہے ہیں مگر ابھی تک مارکیٹ میں یہ ویکسین دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔جبکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے شکار کردہ ملین لوگ اسپتالوں میں پڑے ہیں اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

کورونا وائرس کا پہلا مریض چین کے شہرمیں ملا تھا جہاں سے دنیا بھر میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ یہ وائرس چین سے پھیلایا گیا اور اسی کے شہر ووہاں میں تیار ہوا ہے۔جبکہ اب سے کچھ عرصہ پہلے چینی ماہرین صحت نے اس الزام کی تردید کر دی تھی کہ ووہان کی کسی لیب میں یہ وائرس تیار نہیں ہوااور نہ ہی ملک کے کسی اور شہر میں اس کے کوئی ثبوت ملے ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ اب چینی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس چین میں نہیں بلکہ انڈیا سے پھیلا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ یہ وائرس انڈیا سے آگے پھیلا ہے۔ان کا مانناہے کہ گزشتہ برس کے موس گرما میں لو کی لہر جب عروج پر تھی اس وقت یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیاکے بہت سارے گاﺅں ایسے ہیں جہاں انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں۔لہٰذا یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے اور اس کا آغاز انڈیا سے ہوا ہے جہاں کورونا وائرس کا پہلا مریض ووہان شہر میں شناخت ہونے سے کہیں پہلے دریافت ہوا تھا۔

تاہم ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اس سے قبل کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا الزام اٹلی اور امریکہ پر بھی لگا چکا ہے اس لیے جب تک ثبوت سامنے نہیں ا ٓجاتے تب تک اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ ڈبلیو ایچ او پہلے ہی چین سے کورونا وائرس پھیلنے کے ثبوت ڈھونڈ رہا ہے جس میں ابھی تک اسے کسی قسم کی کامیابی نہیں ملی۔بہرحال کورونا وائرس کہیں سے بھی پھیلا ہے یہ سوال اتنا اہم نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ اس کی ویکسین کب تک مارکیٹ میں آئے گ تاکہ لوگ نارمل زندگیاں جینے کی طرف لوٹ آئیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments