مریخ پر بسائی جانے والی کالونی انسانوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کھارے پانی سے فیول اور میٹھے پانی کی کشید ممکن ہو جائے گی

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ دسمبر 05:55

مریخ پر بسائی جانے والی کالونی انسانوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی
سینٹ لوئس (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02  دسمبر2020ء) خلا میں جانا اب انسان کا جنون بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے روز خلا کو تسخیر کرنے کے حوالے سے نت نئی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ٹیکنالوجی میں ترقی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا آسمانوں پر کمندیں ڈالنے کا مشن اور زیادہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔لہٰذا سائنٹسٹس روزانہ کی بنیاد پر نئے انکشافات کر رہے ہیں۔

ماہرین نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حیران کن ایجاد کی ہے کہ ناقابل استعمال پانی سے بیک وقت فیول اور سانس لینے کے لیے ہوا پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پینے کا پانی بھی کشید کر لیا ہے۔یہ ٹیکنالوجی نہ صرف زمین پر استعمال میں لائی جا سکتی ہے بلکہ مستقبل میں جب انسان مریخ پر ٹھکانہ بنا لے گا تب وہاں بھی قابل استعمال پانی کے لیے اسی قسم کی ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

امریکی ریاست سینٹ لوئس میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے اسکول آف انجینئرنگ کے ماہرین نے برائن الیکٹرو لائسز سسٹم ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے کھارے پانی سے میٹھا پانی کشید کرنے کے ساتھ ساتھ اسے فیول بنانے میں بھی مددگار بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ مریخ کا پانی بھی اسی طرح کھارا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہے لہٰذا مستقبل میں جب وہاں انسان بسیرا کرے گاتو اسے بھی قابل استعمال پانی اسی طریقے کے تحت مہیا کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ناسا نے مستقبل میں مریخ پر انسانی کالونیاں آباد کرنے اور زمین سے انسانوں کو خلا میں لے جا کر بسانے کا اعلان کر رکھا ہے۔اس لیے انسانوں کے پہنچنے سے قبل وہاں پر پانی اور دیگر چیزوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ناسا سمیت کئی دیگر خلائی کمپنیاں بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا میں مختلف چیزوں کو دریافت کرنے سمیت وہاں انسانوں سے انسانوں سے ملتی جلتی مخلوق کو تلاشنے میں سرگرداں ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ خلائی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کو خلاﺅں کا مکین بنانے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments