یورپی یونین ہماری مدد کرے،فرانس کی دوہائی

امریکہ کے بے جا ٹیکسز نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہے،فرانسیسی وزیر خزانہ

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ دسمبر 06:30

یورپی یونین ہماری مدد کرے،فرانس کی دوہائی
پیرس (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02  دسمبر2020ء) فرانس کے فنانس منسٹر نے عہد کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کی طرف سے ٹیکنالوجی گیجٹس پر لگائے گئے بے جا ٹیکسز اور دیگر پابندیوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔اور ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ڈیجیٹل ٹیکس کی وجہ سے ٹیرف پر کچھ اثر ہوا تو پھر یورپی یونین کو آگے آنا ہو گا۔فنانس منسٹر نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکس کی مد میں جتنی بھی پابندیاں امریکہ لگانا چاہتا ہے لگا لے ہم پھر بھی اس کے دباﺅ میں نہیں آئیں گے۔

اور امریکہ کی پابندیاں فرانس کے آئین پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گی۔امریکہ کے حد سے زیادہ ٹیکسز سے بچاﺅ کے لیے فنانس منسٹر نے یورپی یونین سے بھی التجا کی ہے کہ وہ ان کی مدد کو آئیں۔فیس بک اور ایمازون سمیت کئی دیگر کمپنیاں بھی فرانس سے سالانہ ملین ڈالر ٹیکس کی مد میں اکٹھا کر رہی ہیں جس پر فرانسیسی فرمز کو شدید تحفظات لاحق تھے ا ور اس سلسلے میں فرانس نے پھر سے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور اسی حوالے سے فرانس کے وزیر خزانہ نے واشنگٹن کو آنکھیں دکھانے کی جرات کی تھی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ رواں برس امریکہ نے فرانس سے ٹیک گیجٹس کے علاوہ سوپ،ہینڈ بیگز اور میک اپ کے سامان کی امپورٹ کی مد میں 1.3بلین ڈالر وصول کیے ہیں۔جس پر فرانس کی کمپنیوں نے شور مچایااور اب فرانس ٹیکس کی مد میں 2019میں لاگو کرنے والے قانون کو اپڈیٹ کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔یاد رہے کہ یہ وہی فرانس ہے جہاں مسلمانوں اور اسلام کا مذاق اڑانے ا ور انہیں تکلیف دینے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتااور گزشتہ کافی عرصہ سے حکومت نے بذات خود شہروںمیں امن و امان کی صورت حال خراب کر رکھی ہے اور یہاں کے آئین کے انصاف کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ناموس رسالتﷺ کے حوالے سے کارٹون دکھانے والے لعین ٹیچر کے قتل کے الزام میں چار ایسے بچوں کو گرفتار کر لیا ہوا ہے جن کی عمریں دس سے چودہ برس کے درمیان ہیں۔

یہی نہیں بلکہ کئی اور کالے قانون بھی فراسیسی پارلیمنٹ نے لاگو کیے ہیں جن کے خلاف فرانس کے عوام سڑکوں پر ہیں اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہوا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments