لیگی رہنما نواز شریف اور چوہدری نثار کے مابین ناراضی ختم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے

ایاز صادق سمیت سینئر لیگی رہنماؤں کی نواز شریف اور چوہدری نثار کے مابین رابطے کے لیے کوششیں تیز، شہباز شریف نے بھی فون کرنے کا مشورہ دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ دسمبر 15:17

لیگی رہنما نواز شریف اور چوہدری نثار کے مابین  ناراضی ختم کرنے کے لیے ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02 دسمبر2020ء) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور سینئر سیاستدان چوہدری نثار علی خان کے درمیان ملاقات کرانے میں سردار ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق نے اہم کردار ادا کیا ہے جب کہ مشترکہ دوست اگلے مرحلے پر نواز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے لیے کوشش کر رہے ہیں تاکہ چوہدری نثار لندن میں موجود قائد ن لیگ نواز شریف سے ان کی والدہ بیگم شمیم اختر کی وفات پر اظہار تعزیت کر سکیں۔

شہباز شریف نے بھی چوہدری نثار کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیلیفون پر نواز شریف سے اظہار افسوس کریں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان گذشتہ روز رائے ونڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ دوست سردارایاز صادق، رانا تنویر اور سعد رفیق کسی بڑے بریک تھرو کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

(جاری ہے)

دونوں طرف سے رابطے اور کوششیں جاری ہیں۔

مشترکہ دوستوں کا خیال ہے کہ چوہدری نثار کے ساتھ ملاقات میں شہباز شریف نے واضح کر دیا تھا کہ حتمی فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو ہے اس لیے چند خیر خواہ کوشش کر رہے ہیں، نواز شریف اور چوہدری نثار دونوں کو ٹیلی فون پر بات چیت کے لیے راضی کیا جائے جس کی ابتدا نواز شریف سے ان کی والدہ کی وفات پر چوہدری کی طرف سے تعزیت ہو گی۔ واضح رہے کہ دو روز قبل سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جاتی امرا گئے۔

چوہدری نثار نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے ملاقات کی جس میں انہوں نے شہبازشریف سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور درجات کی بلندی کیلئے دعا بھی کی۔ بتایا گیا ہ جب چوہدری نثار علی خان جاتی امرا پہنچے تو مریم نواز ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسے کیلئے جاچکی تھیں۔ جس پر بعض لوگوں نے کہا کہ شاید چوہدری نثار اس وقت جاتی امرا آئے جب مریم نواز چلی گئی تھیں، لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ اتفاق ہو کہ چوہدری نثار شہبازشریف اور مریم نواز دونوں سے تعزیت کرنا چاہتے ہوں لیکن چوہدری نثار کے تاخیر سے پہنچنے پر مریم نواز جاچکی تھیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments