جج ارشد ملک اپنے اعتراف اورانکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے، مریم نواز

ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نہ ملنے کا ذمہ دار کون ہے؟ اللّہ نے انہیں توفیق دی وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کرگئے، اقتداراورطاقت کے نشے میں اندھے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔ نائب صدر ن لیگ کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 20:45

جج ارشد ملک اپنے اعتراف اورانکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے، مریم ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 04 دسمبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ارشد ملک اپنے اعتراف اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے، ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نہ ملنے کا ذمہ دار کون ہے؟  اللّہ نے انہیں توفیق دی وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر گئے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں جج ارشد ملک کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔

اللّہ نے انہیں توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کر گئےاور بتا گئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کے لیے بلیک میل کیا اور استعمال کیا۔

(جاری ہے)

مریم نواز نے مزید کہا کہ للّہ ارشد ملک صاحب کی بخشش فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ 

 یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں۔

مجھے ایسے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔ اللّہ ظالم کے ساتھ نہیں۔ ظالم برباد ہو کر رہے گا، یہ اللّہ کا نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ملک اپنے اعتراف اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے۔ ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نہ ملنے کا ذمہ دار کون ہے؟ جس کیس میں نوازشریف کو اشتہاری دلانے کی جلدی تھی اس کیس کی سزا سنانے والے جج کے اعتراف پر کوئی ایک دن بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟ 
 انہوں نے اپنے ٹویٹ میں پارٹی صدر شہبازشریف سے ون ٹو ون ملاقات بارے کہا کہ ملاقات میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ شہبازشریف نے کہا ہو کہ اس حد تک نہ جائیں کہ جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، بلکہ شہبازشریف نے واضح کہا کہ میں کسی لالچ میں نہ آکر نوازشریف کا ساتھ نہیں چھوڑا، میں پرسکون سوتا ہوں اور مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔

یہ ملاقات ون ٹوون تھی اس لیے اندرونی کہانی بتانا ممکن نہیں ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments