نعوذباللہ! اسلام کوئی مذہب نہیں ہے،یہ سیاسی پارٹی ہے ا ور اس کے ماننے والے جنگجو ہیں

یونانی بشپ کی ہرزہ سرائی،عالم اسلام سیخ پا،بشپ کا ویڈیو بیان وائرل

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل جنوری 05:54

نعوذباللہ! اسلام کوئی مذہب نہیں ہے،یہ سیاسی پارٹی ہے ا ور اس کے ماننے ..
یونان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جنوری2021ء) ”جیسا کہ میں جانتا ہوں کہ اسلام اور اس کے ماننے والے کوئی مذہب نہیں ہے،یہ ایک سیاسی جماعت ہے،اس کے ماننے والے جنگجو لوگ ہیں،اپنی ریاست کو بڑھانے والے لوگ ہیں،یہی اسلام کی خصوصیات ہیں۔“یہ الفاظ ہیں یونان کے سب سے بڑے بشپ ایرونائمز دوئم کے۔یوں ایک مرتبہ پھر عالم اسلام کے جذبات کو ابھارا گیااور اسلام کے خلاف زہر فشانی کی گئی۔

ایتھنز اور یونان کے سبھی مذہبی پیشواﺅں کے سرخیل ایرونائمز دوئم کی طرف سے مذہب اسلام کے خلاف اس قسم کی زہر فشانی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنے اندر کتنا زہر رکھتے ہیں۔یہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام الاپتے مسلمانوں اور اسلام کے خاتمہ کے درپے ہیں۔

(جاری ہے)

یہی وجہ ہے کہ کبھی اسکارف کے نام پر کبھی دہشت گردی کے نام پر اور کبھی لبرل ازم کے نام پر مسلمان ممالک پر حملے کے جاتے ا ور دنیا بھر میں مسلمانوں پر سخت اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں۔

تاہم ایرونائمز دوئم کی جانب سے مذہب اسلام کے خلاف ریمارکس ایک ایسے موقعہ پر سامنے آئے ہیں جب ترکی اور یونان کے درمیان تعلقات کافی عرصے بعد بہتری کی طرف جا رہے تھے۔

لہٰذا دنیا بھر سے مسلم ممالک اور مسلم امہ کی طرف سے ایرونائمز دوئم کے اس بیان کی مذمت کی گئی۔

نہ صرف مسلمانوں کی طرف سے بلکہ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی بشپ کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ترکی کی طرف سے بشپ کے اس بیان پر شدید ردعمل آ رہاہے اورترکی کے مذہبی امور کے ڈائریکٹر نے بشپ کو اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔حالانکہ یہودیت کے مطابق بھی ان کے مذہبی کلرک کی ذمہ داری امن کا پیغام دینااور دوسرے مذاہب کی عزت کرنا سکھانا ہوتا ہے جبکہ یہاں تو ان کے ہیڈ پیشوا دنیا کے ایک بہت بڑے مذہب کے خلاف لوگوں کو اکسا رہے اور امت مسلمہ کے ایمان اور دین کی توہین کر رہے ہیں۔

تاہم بشپ کی اس تنقید کا کا ردعمل پوری دنیا سے آ رہا ہے اور امت مسلمہ کی طرف سے یونان کے ہیڈ پیشوا سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments