لاہو رہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری سے صوبہ بھر کے اضلاع کے ڈویلپمنٹ فنڈز کی رپورٹ طلب کر لی

وزیر اعلی اپنے علاقے میں من پسند ڈویلپمنٹ بجٹ نہیں لگا سکتا ،وزیر اعلی کے غیر قانونی اختیارات ثابت ہو گئے تو سب کو گھر جانا پڑیگا‘ ریمارکس غلط بیانی کرنے پر سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس کی سرزنش ،حکومت کے تمام ادارے عدالت سے جھوٹ بول رہے ہیں‘چیف جسٹس

جمعرات فروری 23:55

لاہو رہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری سے صوبہ بھر کے اضلاع کے ڈویلپمنٹ فنڈز ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 فروری2021ء) لاہور ہائیکورٹ نے نارووال شکر گڑھ روڈ کی عدم تعمیر کیخلاف درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے صوبہ بھر کے اضلاع کے ڈویلپمنٹ فنڈز کی رپورٹ طلب کر لی ،جبکہ فاضل عدالت نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعلی اپنے علاقے میں من پسند ڈویلپمنٹ بجٹ نہیں لگا سکتا ،اگر وزیر اعلی کے غیر قانونی اختیارات ثابت ہو گئے تو سب کو گھر جانا پڑے گا،فاضل عدالت نے غلط بیانی کرنے پر سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ حکومت کے تمام ادارے عدالت سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے شکر گڑھ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی۔چیف سیکرٹری پنجاب،وفاقی و صوبائی سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس سمیت دیگر اعلیٰ افسران ریکارڈ سمیت پیش ہوئے ۔

(جاری ہے)

فاضل عدالت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بجٹ مختص کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب سے صوبہ بھر کے اضلاع کے ڈویلپمنٹ فنڈزکی رپورٹ طلب کر لی۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پنجاب بھر کے اضلاع کی بجٹ کی بابت رپورٹ دیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکمرانوںکو اس معاملے کو اناء کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔ دوران سماعت عدالت کے روبرو میانوالی کے فنڈز کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی ۔ فاضل عدالت نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے فنڈز کے حوالے سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غلط بیانی پر سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس کی سرزنش کی او ریمارکس دئیے کہ حکومت کے تمام ادارے عدالت سے جھوٹ بول رہے ین ۔

اقلیتی رکن اسمبلی نے کہا کہ کرتارپور راہداری پر 16 ارب لگا ئے گئے ،روزانہ 16ہزار سکھ یاتری پاکستان میں سفر کرتے ہیں ۔فاضل عدالت نے کہا کہ اگر وزیر اعلی کے غیر قانونی اختیارات ثابت ہو گئے تو سب کو گھر جانا پڑے گا ۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی قرار داد کی قانونی حیثیت بارے قانونی کتب گھر بھول آیا ہوں ۔

فاضل عدالت نے سرکاری وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پورے پنجاب کی افسر شاہی عدالت میں کھڑی ہے اور آپ کتاب گھر بھول آئے ہیں۔ فاضل عدالت نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے قرار داد وزیر اعلی اور وفاق کو بھیجی ،اس قرار داد کو یا تو منظور کرنا ہوتا ہے یا مسترد کرنا ہوتا ہے ،صوبائی حکومت نے اس پر کیا کیا، اس قرارداد کو اناء کی نظر کر دیا گیا ۔ فاضل عدالت نے قرار داد کو منظوری کے لیے صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments