مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا ورنہ رک جائے گا،خالی سرکاری نوکریوں سے روز گار نہیں ملتا

سب سرکاری نوکری کرنا چاہتے ہیں کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا، پرویز خٹک کی انوکھی منطق

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل 22 جون 2021 07:02

مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا ورنہ رک جائے گا،خالی سرکاری نوکریوں سے روز ..
 اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 22 جون 2021ء )   وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا اور مہنگائی نہیں بڑھے گی تو ملک رک جائے گا۔قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے بجٹ بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خالی سرکاری نوکریوں سے روز گار نہیں ملتا، سب سرکاری نوکری کرنا چاہتے ہیں کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا، ملک میں لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں اچھا رہن سہن ہے، بتائیں کہاں غربت ہے، ہمارے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں، مہنگائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے، غربت کا سارا ڈرامہ ہے، غریب غریب اپوزیشن کا ڈرامہ ہے۔

پرویز خٹک کے غربت سے متعلق جملوں پر حکومتی اراکین نے قہقہے لگائے۔ ایک حکومتی رکن نے لقمہ دیا کرک میں غربت ہے۔ پرویز خٹک ان سے بولے وہاں ہو گی ملک میں کوئی غربت نہیں، عمران خان کے صحیح فیصلوں سے ملک کی معیشت بہتر ہوگئی، میں چیلنج کرتا ہوں میرے صوبے میں ایک غریب سامنے لاکر دکھائیں۔

(جاری ہے)

ملک میں بڑھتی مہنگائی پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے عجب منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا، کارخانے چلیں گے اور زراعت ہوگی، مہنگائی نہیں بڑھے گی تو ملک رک جائے گا۔

پرویز خٹک نے مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی 20 سالہ حکومت سے میری پانچ سال کی کارکردگی بہتر ہے، نواز شریف کی کارکردگی بہتر ہوتی تو عوام انہیں مسترد کرتی، شہباز شریف اپنے کاموں کی فہرست لے آئیں ہم سے موازنہ کر لیں۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ امریکا، یورپ سمیت پوری دنیا میں مہنگائی ہے، اپوزیشن کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا، اپوزیشن والے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگتا ہے، وزیراعظم کے درست فیصلوں سے معیشت کو نقصان نہیں پہنچا، موجودہ حکومت نے کسان کو بغیر سود قرض کی سہولت دی۔

انہوں نے کہا کہ ملک نوکریاں دینے سے نہیں چلتا، ہر کوئی سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی کی وجہ سے دو تہائی اکثریت ملی، 38 سال میں کسی کنٹریکٹ میں حصہ نہیں لیا، چاہتا تو اربوں کما سکتا تھا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments