سعودیہ میں نماز کے دوران دکانیں بند رکھنے کی پابندی ختم کرنے پر غور

نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کے حق میں اراکین نے بہت سے دلائل دیے ہیں،رپورٹ

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل 22 جون 2021 07:06

سعودیہ میں نماز کے دوران دکانیں بند رکھنے کی پابندی ختم کرنے پر غور
ریاض (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 22 جون 2021ء )   سعودی عرب میں نماز کے اوقات کے دوران تجارتی مراکز اور دکانیں بند رکھنے کی پابندی اٹھانے پر ووٹنگ ہوگی۔سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اراکین شوریٰ کی اسلامک اینڈ جوڈیشل افیئرز کمیٹی نے وزارت اسلامی امور کی رپورٹ میں چند اضافی سفارشات پیش کی ہیں جن میں نماز کے اوقات میں کاروباری مراکز کو بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

یہ سفارش شوریٰ کے ارکان عطا الصبیتی، ڈاکٹر فیصل الفادل، ڈاکٹر لطیفہ الشالان اور ڈاکٹر لطیفہ ال عبدالکریم کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔وزارت اسلامی امور سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ایجنسیوں سے مشاورت کریں کہ تجارتی سرگرمیوں بشمول پیٹرول پمپس اور فارمیسیز کو نماز کے اوقات میں بند نہ کیا جائے البتہ جمعے کی نماز میں تمام تجارتی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رکھی جائے۔

(جاری ہے)

نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کے حق میں اراکین نے بہت سے دلائل دیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ پوری دنیا بشمول اسلامی ممالک میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ نماز کے اوقات میں کاروبار بند کیا جاتا ہے، ایسا صرف سعودی عرب میں ہوتا ہے۔ارکان کا کہنا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی دیگر سرکاری و نجی کمپنیوں کی طرح شاپنگ سینٹرز اور دکانیں بھی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی ہیں اور حصول معاش کا ذریعہ ہیں لہٰذا دیگر شعبوں کی طرح انہیں بھی بند نہیں کیا جانا چاہیے۔

ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نماز کے اوقات میں دکانوں کو بند کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں بھی کہیں نہیں ملتا، سوائے نماز جمعہ کے۔ ارکان کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے جو احادیث موجود ہیں وہ ضعیف ہیں اور کوئی مستند حدیث نہیں نظر آتی اور نہ ایسے کوئی شواہد موجود ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دور میں نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ارکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاروباری مراکز بند ہونے سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments