اہل لاہور کیلئے ایک اور تحفہ، مینار پاکستان کے قریب ایک اور بلند و بالا مینار تعمیر کرنے کی تیاریاں

بادامی باغ میں محکمہ آبپاشی کے پلاٹ پر لاہور نظارہ مینار تعمیر کرنے پر غور، لاہور نظارہ پوسٹ کیساتھ کیفے اور ویڈیو ومیوزیم ہال کی بھی تجویز زیر غور، مینار سے گریٹر اقبال پارک، شاہی مسجد اور قلعہ کا نظارہ قابل دید ہوگا

جمعرات جون 21:51

اہل لاہور کیلئے ایک اور تحفہ، مینار پاکستان کے قریب ایک اور بلند و بالا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2021ء) اہل لاہور کیلئے ایک اور تحفہ، مینار پاکستان کے قریب ایک اور بلند و بالا مینار تعمیر کرنے کی تیاریاں، بادامی باغ میں محکمہ آبپاشی کے پلاٹ پر لاہور نظارہ مینار تعمیر کرنے پر غور، لاہور نظارہ پوسٹ کیساتھ کیفے اور ویڈیو ومیوزیم ہال کی بھی تجویز زیر غور، مینار سے گریٹر اقبال پارک، شاہی مسجد اور قلعہ کا نظارہ قابل دید ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق کمشنر لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان نے خوبصورت لاہور و تاریخی لاہور کی بحالی کے عزم کے حوالے سے لاہوروالڈ سٹی اتھارٹی میں ڈی جی اتھارٹی کامران لاشاری کے ہمراہ اجلاس کی صدارت کی۔ کمشنر لاہور نے اس موقع پر کہا کہ 1883 میں قائم ہونے والے پانی والا تالاب کو محفوظ و بحال کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

کمشنر لاہورکو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 510 ستونوں پر قائم پانی والا تالاب ٹینکوں سے ماضی میں لاہور کو پانی مہیا ہوتا تھا۔

کمشنر لاہور نے کہا کہ بادامی باغ میں محکمہ آبپاشی کے پلاٹ پر لاہور نظارہ مینار تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور نظارہ پوسٹ کیساتھ کیفے اور ویڈیو ومیوزیم ہال کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ لاہور نظارہ مینار سے گریٹر اقبال پارک، شاہی مسجد اور قلعہ کا نظارہ قابل دید ہوگا۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ علاقے کی خوبصورتی اور تاریخی ورثہ کی بحالی سے سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

کمشنر لاہور، ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی اور ایم ڈی واسا نے پانی والا تالاب رنگ محل و بادامی باغ کا دورہ کیا اور پانی والا تالاب کی فعالیت کو بھی چیک کیا جو اب بھی مخصوص آبادی کو پانی فراہم کر رہا ہے۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ لاہور والڈ سٹی اتھارٹی اندرون لاہور تاریخی ورثہ بحالی کیلئے بہت محنت کر رہی ہے۔ لاہور نظارہ مینار و میوزیم کیلئے والڈ اتھارٹی، ایم سی ایل،واسا اور محکمہ آبپاشی کی کمیٹی کام کرے گی۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments