لاہور ؛ 60 سے زائد مرتبہ چالان کرانے والی گاڑی بالآخر دھری گئی

ڈرائیور نے 19 بار اوور اسپیڈنگ کی ، 11 مرتبہ لین لائن کی خلاف ورزی کی اور 33 بار ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ، 39 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کردیا گیا

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 17 ستمبر 2021 12:47

لاہور ؛ 60 سے زائد مرتبہ چالان کرانے والی گاڑی بالآخر دھری گئی
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 16 ستمبر 2021ء ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 60 سے زائد مرتبہ چالان کرنے والی کمرشل گاڑی کو بالآخر پولیس نے پکڑ لیا۔ تفصیلات کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس لاہور کی ای چالان ٹیم نے فیصل ٹاؤن سے 63 چالان والی ایک کمرشل گاڑی کو پکڑا جس کے ڈرائیور نے 19 بار اوور اسپیڈنگ کی ، 11 مرتبہ لین لائن کی خلاف ورزی کی اور 33 بار ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ 39 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے جب کہ کوسٹر کو لاہور کے تھانہ فیصل ٹاؤن میں بند کروا دیا گیا۔ دوسری جانب شہری پنجاب سیف سٹی کیمروں کو انوکھے انداز سے دھوکہ دینے لگے، پنجاب سیف سٹی کے جدید کیمروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں نے نمبر پلیٹس پر سیاہ پلاسٹک پیپر لگا کر انہیں کیمو فلاج کرنا شروع کردیا گیا ہے ، پنجاب سیف سٹی کے کیمروں سے گاڑی کی شناخت خفیہ رکھنے کیلئے یہ طریقہ ایجاد کیا گیا اور اس لاہور کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں جن کی نمبر پلیٹس پر گہرا سیاہ رنگ کا پیپر لگا ہوتا ہے جس کی وجہ سے رجسٹریشن نمبر کی واضح شناخت مشکل ہوتی ہے ، سیاہ پلاسٹک پیپر کو پرانے ڈیزائن والی نمبر پلیٹس پر لگایا جارہا ہے اور کیمرے دن کی روشنی میں بھی ایسی نمبر پلیٹ کی درست شناخت نہیں کر پاتے کیوں کہ بلیک پیپر کی وجہ سے الفاظ اور اعداد غیر واضح ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ چین اور کوریا سے امپورٹ کئے جانے والے سیاہ پلاسٹک کو طویل عرصہ سے گاڑیوں کے شیشوں پر لگایا جاتا ہے تاکہ گاڑی کے اندر نہ دیکھا جا سکے لیکن اب اسی پیپر کو نمبر پلیٹ پر چسپاں کیا جارہا ہے جس سے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر کیمروں کے شناختی نظام میں واضح نہیں ہوتا ، نمبر پلیٹ کو کیمو فلاج کرنے والے افراد سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ٹریفک ای چالان کے خوف سے آزاد ہو کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں جب کہ اس طریقہ کار کو جرائم پیشہ افراد کی جانب سے استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments