پنجاب حکومت نے سالوں سے عائد نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام پر پابندی ختم کردی

10سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے این او سی جاری ہو چکے، نئی سیمنٹ فیکٹریوں سے لاکھوں لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پسماندہ علاقوں میں فیکٹریاں قائم ہونے سے معاشی ترقی ہوگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 18 ستمبر 2021 19:38

پنجاب حکومت نے سالوں سے عائد نئی سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام پر پابندی ختم کردی
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18ستمبر2021ء) پنجاب حکومت کے کان کنان کی فلاح وبہبود اورشعبہ کان کنی میں انقلابی اقدامات کی بدولت مالی سال2020-21 میں 10.19ارب روپے سے زائد ریکارڈ ریونیو وصولی ہوئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کان کنی کے وسائل کا بھرپور اور بہتر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔کنسٹرکشن سیکٹر کے فروغ کیلئے سیمنٹ سیکٹر پر عائد پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور پنجاب میں نئی سیمنٹ فیکٹریوں کیلئے22نئے این او سی جاری کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال میں 10 سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے این او سی جاری ہو چکے ہیں جبکہ پنجاب میں سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے مزید این او سی کے اجراء کا عمل جاری ہے۔ نئی سیمنٹ فیکٹریاں قائم ہونے سے لاکھوں لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

(جاری ہے)

پسماندہ علاقوں میں نئی سیمنٹ فیکٹریاں قائم ہونے سے معاشی ترقی ہوگی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید بتایا کہ نمک اور کوئلے کی صنعت کے فروغ کیلئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ایک ارب 64کروڑ روپے ریونیو وصولی کی گئی ہے۔ نمک کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے 21راک سالٹ ایکسپلوریشن لائسنس جاری کئے گئے۔ کوئلے کی 4اورنمک کی 8 مائنز کے آغاز سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ کوئلہ کی کان کنی پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے اور کوئلہ کے 20 بلاکس کے نیلام عام میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

بروقت معلومات فراہم کرنے کیلئے منرل کیڈسٹرل سسٹم لایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی معاونت سے ای، فائٹنگ اورآفس آٹو میشن سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔ مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا نفاذ کیا گیا ہے۔ مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ کے تحت45 ان سروس تربیتی کو رسز شروع ہو چکے ہیں اور 3000 ورکرز کی پروفیشنل ٹریننگ کرائی گئی۔

پنجاب سکول آف مائنز کٹاس میں جدید سہولیات سے آراستہ ان سروس ٹریننگ اکیڈمی قائم کی گئی ہے۔ مائن سیمپل ٹیسٹنگ لیبارٹری خوشاب کو بحال اور بہتر بنایا جا رہا ہے۔ خوشاب اورمیانوالی اور خوشاب میں ڈپٹی ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز کے نئے دفاتر بنائے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں کان کنوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ یقینی بنانے کیلئے قابل قدر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

کان کنوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے معائنہ سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کر دی گئی۔ کان کنی کے دوران ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے سرگودھا پل111 پر ریسکیوا سکواڈ قائم کر دیا گیا ہے۔کان کنان کے بچوں کیلئے سکالر شپ کی مد میں 300 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کان کنان کے 5600 بچوں کو سالانہ تعلیمی وظائف کی مد میں 8 کروڑ 50 لاکھ روپے دیئے گئے۔ معذورکان کنوں کو6000 روپے ماہانہ کی خصوصی گرانٹ دی جا رہی ہے۔

میانوالی کے علاقے مکڑوال میں 10بیڈز پر مشتمل مائنزلیبر ویلفیئرہسپتال بنایا گیا ہے۔کوہ سلیمان سمیت دور دراز علاقوں میں کان کنوں کے علاج معالجے کیلئے 6 مائنز لیبر ویلفیئر ڈسپنسریاں بنائی جا رہی ہیں۔ضلع چکوال میں کان کنوں کیلئے موبائل ہیلتھ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کان کنوں کو پینے کے صاف پانی کیلئے بستی ڈاہر، مکڑ والا اورچواسیدن شاہ میں 3 واٹر سپلائی سکیمیں اورآراو پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔

لاہور میں شائع ہونے والی مزید خبریں