وزیر اعلی عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر وزیر اعلی آفس کے اخراجات میںنمایاں کمی

وزیر اعلی آفس کے اخراجات پبلک کر دیئے گئے ،مختلف مدات میں سابق دور کے مقابلے میں 76 فیصد تک کمی سابق دور میں 173 گاڑیاں ، اب 110 گاڑیاں زیر استعمال ہیں، ان میں افسرو ں وسٹاف کی گاڑیاںشامل ہیں 2017-18ء میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ، 2020-21ء میں صرف ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ ہوا سابق دور میں سی ایم آفس کی گاڑیوں میں 3لاکھ 72 ہزار آئل استعمال ہوا ،اب صرف 2 لاکھ 28 ہزار لیٹرآئل استعمال ہوا وزیر اعلی آفس کی گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات میں 64 فیصد ، گاڑیوں کے فیول چارجز کی مد میں 39 فیصد گاڑیوں کے استعمال میں 36 فیصد ، دیگر فیول کے استعمال میں 23 فیصد، نان سیلری اخراجات میں 40 فیصد عثمان بزدار کے دور حکومت میں وزیر اعلی آفس میں انٹرٹینمنٹ اور گفٹ 50فیصد کم ہو چکے ہیں ‘ترجمان حکومت فیاض الحسن چوہان

بدھ 22 ستمبر 2021 23:59

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2021ء) صوبائی وزیر جیل خا نہ جات و ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور حکومت میں وزیراعلی آفس کے اخراجات 76 فیصد تک کم ہو چکے ہیں اور وزیر اعلی عثمان بزدار کی ہدایات پر وزیر اعلی آفس کے مختلف مدوں میں کئے گئے اخراجات کو پبلک کر دیاہی- انہوں نے بتایا کہ سابق دور 2017-18 ء میں وزیر اعلی آفس میں 173 گاڑیاں زیر استعمال تھیں جبکہ 2020-21ء میں صرف 110 گاڑیاں زیر استعمال ہیں - ان میں افسروں اور سٹاف کے زیر استعمال گاڑیاں شامل ہیں - سابق دور 2017-18ء میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ 2020-21ء میں اخراجات صرف ڈیڑھ کروڑ روپے تک محدود رہی-2017-18ء میں سی ایم آفس کی گاڑیوں میں 3لاکھ 72 ہزار لیٹر آئل استعمال ہوا جبکہ 2020-21ء میں صرف 2 لاکھ 28 ہزار لیٹرآئل استعمال ہوا-2017-18ء میں سی ایم آفس میں فیول کی مد میں ساڑھے 3 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ 2020-21ء میں پٹرول کے نرخ بڑھنے کے باوجود صرف 2 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئی-2017-18ء میں سی ایم آفس کے نان سیلری اخراجات 24 کروڑ روپے تھے جبکہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی ہدایت پر2020-21ء میں اس مد میںصرف 14 کروڑ روپے خرچ ہوئی- انٹرٹینمنٹ اور گفٹ کی مد میں 2017-18ء میں 9 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ 2020-21ء میں 4 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ ہوئی-اسی طرح 2017-18ء میں وزیر اعلی کے صوابدیدی فنڈز سے 9 کروڑ60 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ 2020-21ء میں صرف 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کئے گئے -انہی 2 سالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کے دور میں وزیر اعلی آفس کی گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات میں 64 فیصد ، گاڑیوں کے فیول چارجز کی مد میں 39 فیصد، گاڑیوں کے استعمال میں 36 فیصد ، دیگر فیول کے استعمال میں 23 فیصد، نان سیلری اخراجات میں 40 فیصد ، انٹرٹینمنٹ اور گفٹ میں تقریبا 50فیصد کمی آچکی ہے -سابقہ دور حکومت میں 2017-18 ء کی نسبت 2020-21 میں وزیر اعلی کی صوابدیدی گرانٹ کے اخراجات 76 فیصد کم ہیں - ترجمان حکومت پنجاب نے بتایا کہ وزیر اعلی آفس کے امور میں شفافیت کو ہر صورت میں ترجیح دی جاتی ہی-فیول اخراجات اور فنڈز وغیرہ کے بارے میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں تاہم بعض امور کے بارے میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر معلومات پبلک نہیں کی جا سکتیں- انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی ہدایت پر کفایت شعاری اور شفافیت اپنانے کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں - وزیر اعلی آفس میں گزشتہ ادوار کی طرح شاہانہ اخراجات کا سلسلہ بند ہو چکا ہے -اہم مدات میں صرف ضروری اخراجات کئے جاتے ہیں - وزیر اعلی آفس سے ملحق ایک ہی سرکاری رہائش گاہ ہونے کی وجہ سے بھی اخراجات میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے -

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments