وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی ہدایات پر ڈی جی خان ، راجن پور کی بارڈر ملٹری پولیس و بلوچ لیویز کو ضم کرنے کے طریقہ کار پر غور

ڈپٹی سپیکر ،وزرا ء ،اراکین اسمبلی نے اصلاحات اور قانونی ترامیم کی تجویز کو مسترد کر دیا،دونوں فورسز کو مزید بااختیار بنانے پر زور

بدھ 22 ستمبر 2021 23:59

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2021ء) وزیر قانون و کوآپریٹوز پنجاب راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں وزیر اعلی کی کمیٹی برائے بارڈر ملٹری پولیس و بلوچ لیویز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی ہدایات پر ڈی جی خان و راجن پور کی بارڈر ملٹری پولیس و بلوچ لیویز کو ضم کرنے کے طریقہ کار پر غور و خوض کیا گیا۔

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری، صوبائی وزرا ء محسن لغاری اور حسنین دریشک، رکن قومی اسمبلی محسن کھوسہ، اراکین پنجاب اسمبلی احمد علی دریشک ، جاوید لنڈ اور داد سلیمانی اور قبائلی رہنمائوں سمیت آئی جی پنجاب ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر و آرپی او ڈی جی خان اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی ۔

(جاری ہے)

راجہ بشارت نے کہا کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے کچے کے ایریا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے وزیر اعظم نے بارڈر ملٹری پولیس و بلوچ لیویز کو ضم کرنے کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ نئی اصلاحات اور قانونی ترامیم کے ذریعے دونوں فورسز کو پنجاب پولیس کے ماتحت کر دیا جائے۔ تاہم ڈپٹی سپیکر سمیت تمام وزرا ء اور اراکین اسمبلی نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے دونوں فورسز کو مزید بااختیار بنانے پر زور دیا ۔ وزیر قانون نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ دونوں فورسز کی بہتری کے لیے جامع پیکج تیار کریں جس میں عرصہ دراز سے پڑی خالی آسامیاں پر کرنے، سٹاف کی ٹریننگ اور عدم دستیاب سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments