نوازشریف کا جعلی ویکسینیشن کارڈ بننے پر این سی او سی کے سربراہ کا ردِعمل

نوازشریف کی جعلی ویکسینیشن کے معاملے پر تعجب نہیں ہوا کیونکہ ان کی زیادہ تر روایت جعلی کاموں کی رہی ہے۔اسد عمر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 24 ستمبر 2021 11:16

نوازشریف کا جعلی ویکسینیشن کارڈ بننے پر این سی او سی کے سربراہ کا ردِعمل
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2021ء) :سابق وزیراعظم نوازشریف کا جعلی ویکسینیشن کارڈ بننے پر اسد عمر کا ردِعمل آگیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے سابق وزیراعظم نوازشریف کورونا ویکیسن کے جعلی سرٹیفیکیٹس بنائے جانے پر اپنا ردِعمل دیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ نوازشریف کی جعلی ویکسینیشن کے معاملے پر تعجب نہیں ہوا کیونکہ ان کی زیادہ تر روایت جعلی کاموں کی رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے محکمہ صحت سے 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ویکسی نیشن کا جعلی اندراج کرنے کے معاملے کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں 7 افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کر دی گئی ہے جس میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے ۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا کہ ویکسی نیشن سینٹرمیں تعینات عملہ غیرتربیت یافتہ تھا۔ کوررونا ویکسیشن ڈیٹا چوکیدار اور وارڈ بوائے رجسٹرڈ کرتے رہے۔ کوٹ خواجہ سعید اسپتال میں چار ملازمین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نواز شریف کا ڈیٹا رجسٹرڈ کیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسپتال میں سپروائزری کا فقدان تھا، جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا، اسپتال انتظامیہ کی جانب سے سنٹر میں کوئی سینئر سٹاف تعینات نہیں کیا گیا تھا، ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے کا ٹاسک اسپتال انتظامیہ نے وارڈ سرونٹ اور چوکیدار کو دیا تھا، کئی ماہ سے چوکیدار اور وارڈ بوائے کوررونا ویکسینیشن کا ریکارڈ نادرا کے پورٹل پر چڑھاتے رہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسپتال میں کسی قسم کا آن لائن یا مینول چیک اینڈ بیلنس موجود ہی نہیں، ایم ایس کا پی اے رانا مظفر کا دوست نوید متعدد بار ملاقات کے لئے آتا رہا اور تعلقات بہتر ہونے پر متعدد شناختی کارڈ رجسٹرڈ کروائے گئے، نوید نے چوکیدار ابوالحسن سے بھی تعلقات بنائے اور ابوالحسن چوکیدار سے کہا کہ اس کے والد کا ریکارڈ رجسٹرڈ کرنا ہے، ابوالحسن چوکیدار نے وارڈ بوائے عادل رفیق کو وٹس ایپ پر ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے کو کہا۔

ڈیٹا اندراج کا اختیار اسپتال انتظامیہ نے وارڈ سرونٹ اور چوکیدار کو دیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ابوالحسن چوکیدار نے وارڈ بوائے عادل رفیق دونوں افراد نے ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے کو تسلیم کرلیا۔ واقعے میں زیادہ غفلت ایم ایس کی تھی، ریکارڈ چیکنگ کے دوران تضادات پائے گئے۔ ایم ایس، سینئرافسر، کلرک، نرس، وارڈ بوائے، چوکیدار اور پی اے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔

ایم ایس کوٹ خواجہ سعید اسپتال ڈاکٹر احمد ندیم سمیت 9 افسران اور ملازمین کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی۔ دوسری جانب وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا کہ کہ واقعے میں ملوث ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ جس نے بھی یہ شرارت کی ہے اس نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یاسمین راشد نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو غفلت کی بنا پر معطل کردیا گیا ہے۔

سائبر کرائم کے تحت کارروائی کی جارہی ہے، ذمہ داروں کوسامنے لایا جائے گا۔ ویکسین لگانے کی ذمہ داری اسپتال کے سربراہ کی ہوتی ہے۔ نواز شریف کی جعلی کورونا ویکسی نیشن انٹری پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کیے۔ ایف آئی اے سائبرکرائم کے مطابق چوکیدار ابوالحسن اور وارڈ بوائے عادل نے نواز شریف کی جعلی انٹری کے لیے تیسرے ملازم نوید کی آئی ڈی استعمال کی۔

پولیس نے 3 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے ابوالحسن اور عادل کو گرفتار کرلیا۔کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم اور سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر منیر کو معطل کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں معاملہ سامنے آنے کے بعد این سی او سی نے اپنے ڈیٹا سے اس کا ریکارڈ ہی ختم کر دیا۔ جس کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نےسیکرٹری صحت پنجاب کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments