اسٹیٹ بینک نے درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے قرضوں کے حصول میں سختی کردی

قسطوں کی گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں کے قوانین میں تبدیلی، گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرضے بند، گاڑیوں کے قرضوں کی مدّت 7 سال سے کم کر کے 5 سال جبکہ ڈاؤن پیمنٹ 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ 24 ستمبر 2021 11:22

اسٹیٹ بینک نے درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے قرضوں کے حصول میں سختی کردی
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2021ء) : اسٹیٹ بینک نے درآمد شدہ گاڑیوں کیلئے قرضوں کے حصول میں سختی کردی۔ بڑھتے ہوئے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے اسٹیٹ بینک کو خاص طور پر درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے احتیاطی ضوابط میں تبدیلی اور مالی اعانت کی حد اور مدت کو کم کر کے درآمدات کو سست کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں کے قوانین میں کی جانے والی تبدیلی کے تحت درآمد شدہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرضے بند، گاڑیوں کے قرضوں کی مدّت 7 سال سے کم کر کے 5 سال جبکہ ڈاؤن پیمنٹ 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گاڑیوں کے قرضوں سمیت صارفین کے قرضے اور کریڈٹ کارڈز کے لیے نئے ضوابط نافذ کردیئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

نئے ضوابط کے مطابق درآمد شدہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرضوں کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ گاڑیوں کے قرضوں کی زیادہ سے زیادہ مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال جبکہ بینکوں سے گاڑیوں کے لیے قرضے کی مجموعی حد 30 لاکھ روپے مقرر کردی گئی۔

گاڑی کے قرضے کے لیے کم از کم ڈاؤن پیمنٹ 15فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نئے ضوابط ایک ہزار سی سی انجن کپیسٹی تک کی ملک میں بنی اور اسمبل کی گئی گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ صاف ستھری توانائی کے استعمال کے فروغ کے لیے ملک میں بنی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی نئے ضوابط لاگو نہیں ہوں گے۔

ایک ہزار سی سی سے کم اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں کے پچھلے ضوابط ہی برقرار رہیں گے، جبکہ ذاتی قرضے کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال سے کم کر کے 3 سال کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق نئی ہدایات کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹیو افسران کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments