پی اینڈ ڈی بورڈ کی نظرثانی شدہ رنگ روڈ منصوبے کیلئے زمین کے حصول کی اجازت

6 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کے پی سی ون کی منظوری بھی دیدی گئی ‘۔میڈیا رپورٹ

پیر 18 اکتوبر 2021 19:25

پی اینڈ ڈی بورڈ کی نظرثانی شدہ رنگ روڈ منصوبے کیلئے زمین کے حصول کی اجازت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2021ء) پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ نے راولپنڈی رنگ روڈ کے نظرثانی شدہ منصوبے کے آغاز کرنے کے لیے زمین کے حصول کی اجازت اور 6 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کے پی سی ون کی منظوری دے دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زمین مالکان سے ابھی ریکوری کرنا باقی ہے جو اس نے ریڈیو پاکستان سے مرات اور سنگ جانی کے رنگ روڈ کے پرانے روٹ پر زمین کے حصول کے لیے ادا کی تھی۔

ضلع راولپنڈی میں رنگ روڈ منصوبے کے لیے 38 کروڑ روپے مالیت کی زمین حاصل کی گئی تھی لیکن کرپشن کے اطلاعات کے بعد زمین کا حصول منسوخ کردیا گیا تھا۔یہ سکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب وزیر اعظم عمران خان نے اس الزام کا نوٹس لیا تھا کہ پنجاب بیوروکریسی اور پی ٹی آئی کے کچھ سیاستدانوں نے اضافی روڈ کا منصوبہ بنایا تھا جس سے چند نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچتا اور منصوبے کی لاگت 25 ارب روپے بڑھ جاتی۔

(جاری ہے)

سابق ڈویژنل کمشنر کیپٹن (ر)محمد محمود دو ماہ سے انسداد کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں ہیں جبکہ تنازعہ کے بعد ذوالفقار عباس بخاری نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اگست کے آغاز میں کمشنر سید گلزار حسین نے منصوبے کے لیے زمین کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے سیکشن 48 (1) کے تحت راولپنڈی اور اٹک میں منصوبے کی غیر قانونی تشہیر کے بعد حاصل کی گئی زمین کی مد میں زمین مالکان کو دی گئی رقم واپس وصول کی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ راولپنڈی رنگ روڈ کے سکینڈل کے بعد کمشنر سید گلزار حسین شاہ نے منصوبہ اور راولپنڈی اور اٹک میں زمین کا حصول منسوخ کردیا تھا، منصوبے کے لیے جن افراد کی زمینیں حاصل کی گئیں ان سے رقوم کی وصولی کے لیے کام کا آغاز ہوگیا ہے لیکن ابھی مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے تعاون کرے تاکہ منظور شدہ نئے روٹ کے تحت زمین حاصل کرنے کا عمل شروع کیا جاسکے۔

منصوبے کے تحت نیا روڈ 38.3 کلو میٹر طویل ہوگا جو روات کے قریب بانتھ سے شروع ہوگا اور اس کا اختتام موٹروے کے قریب تھالیان میں ہوگا۔نئی قیمتوں کا تعین علاقے میں دفعہ 4 کے نفاذ کے بعد ہوگا جس کے تحت لوگوں کو زمین کی خرید و فروخت سے روک دیا جائے گا۔یہی منصوبہ سال 2014 میں نواز شریف کی زیر قیادت وفاقی حکومت میں بھی بنایا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت پنجاب نے نیا منصوبہ بنایا لیکن کرپشن کے الزامات کے بعد اسے روک دیا گیا۔

آر ڈی اے کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کے لیے پی سی ون کی منظوری کے بعد زمین کے حصول کا کام شروع کردیا گیا ہے۔منصوبے کے لیے پنجاب حکومت فنڈز فراہم کرے گی کیونکہ یہ منصوبہ پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت تعمیر کیا جائے گاتاہم رواں مالی سال میں مذکورہ منصوبے کے لیے کوئی فنڈز مقرر نہیں کیے گئے ہیں۔آر ڈی اے، پی سی ون منصوبے پر کام کر رہی ہے جو پنجاب ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو جمع کروایا جائے گا تاکہ آئندہ اجلاس میں اسے زیر غور لایا جاسکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments