پنجاب میں سالانہ ترقیاتی بجٹ میں26 ارب روپے کے اضافے کی منظوری

یہ رقم 800 سے زائد نظرانداز ہونے والی چھوٹی اسکیموں پر خرچ کی جائے گی، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کا کل حجم560 سے586 ارب روپے تک ہوگیا ہے۔ ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 21 اکتوبر 2021 17:14

پنجاب میں سالانہ ترقیاتی بجٹ میں26 ارب روپے کے اضافے کی منظوری
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 اکتوبر2021ء) پنجاب میں سالانہ ترقیاتی بجٹ میں26 ارب روپے کے اضافے کی منظوری دے دی، یہ رقم 800 سے زائد نظرانداز ہونے والی چھوٹی اسکیموں پر خرچ کی جائے گی، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 560 سے586 ارب روپے تک ہوگیا ہے۔ ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق پنجاب حکومت نے ترقیاتی بجٹ کا کُل حجم 560 سے بڑھا کر 586 ارب روپے کردیا ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو چھبیس ارب روپے کا مزید بجٹ جاری کردیا ہے۔ یہ رقم 800 سے زائد نظرانداز ہونے والی چھوٹی اسکیموں پر خرچ کی جائے گی۔ بجٹ میں کم مختص شدہ فنڈ والی اسکیموں کو بھی اب بجٹ مل سکے گا۔دوسری جانب وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا موجودہ حالات میں احتجاج کرنا نا مناسب اور قومی مفادات کے خلاف ہے، یہ وقت سیاسی انتشار پھیلا کر ذاتی مفادات کو پرو ان چڑھانے کا نہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپوزیشن کی احتجاجی کال پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اپوزیشن کو سب سے پہلے اپنے لیڈروں کی کرپشن کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، اپوزیشن عناصر نے پہلے کورونا پر پوائنٹ سکورنگ کرنے کی ناکام کوشش کی، پھراپوزیشن ڈینگی پر سیاست چمکاتی رہی، اب یہ ایک بار پھر منفی سیاست کی آڑ میں ترقی کا سفر روکنا چاہتے ہیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پراپیگنڈہ کر کے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتی، حکومت کو عوام کی مشکلات کا پورا احساس ہے، مہنگائی پر قابو پانے کے لئے تمام انتظامی اقدامات اٹھا رہے ہیں، حکومتی اقدامات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم ہوں گی۔

وزیراعلی پنجاب نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں اور انتظامی افسران کو مارکیٹوں اور بازاروں کے وزٹ کر کے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو چیک کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں، حکومت کے موثر اقدامات کے نتائج جلد سامنے آئیں گے، عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، اپوزیشن عوام کیلئے نہیں، صرف اقتدار کیلئے شور مچا رہی ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments