وزارت داخلہ نے لاہور کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنےکی منظوری دے دی

شہر کے3 علاقوں سے ملحقہ 5 کلو میٹر کی حدود میں انٹرنیٹ سروس بند ہوگی، انٹرنیٹ سروس احتجاجی مظاہرے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کی گئی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 22 اکتوبر 2021 23:05

وزارت داخلہ نے لاہور کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنےکی منظوری دے دی
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 22 اکتوبر2021ء) وزارت داخلہ نے لاہور کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنے کی منظوری دے دی، شہر کے3 علاقوں سے ملحقہ 5 کلو میٹر کی حدود میں انٹرنیٹ سروس بند ہوگی، انٹرنیٹ سروس احتجاجی مظاہرے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے لاہور کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنے کی منظوری دے دی اور وزارت داخلہ نے  پی ٹی اے کو بھی فیصلے  سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے پیش نظروزارت داخلہ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی درخواست پر انٹر نیٹ سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور کے 3 علاقوں سے ملحقہ 5 کلو میٹر کی حدود میں انٹرنیٹ سروس بند ہوگی۔ لاہور میں داتا دربار اور شاہدرہ کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند رہے گی۔

(جاری ہے)

نئے راوی پل اور پرانے راوی پل کے علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہوگی۔

لاہور کے متعلقہ علاقوں میں وائی فائی اور فکس لائن ڈی ایس ایل کی سروس بند ہوگی۔ مزید برآں پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ہدایت پر میٹرو بس سروس تاحکم ثانی معطل کردی گئی ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ہدایات پر آپریٹرز کی جانب سے میٹرو بس سروس کے آپریشن کو گجومتہ سے ایم اے او کالج تک چلایا جارہا ہے جبکہ سروس کو ایم اے او سے شاہدرہ تک سروس معطل رکھا گیا ۔

جین مندر پر مسلم لیگ (ن) کے مہنگائی کے خلاف احتجاج کے باعث سروس محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ یتیم خانہ چوک پر احتجاج کے باعث اورنج لائن سروس بھی معطل تھی۔ بعد ازاں اتھارٹی کی ہدایت پر میٹرو بس سروس کو تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا۔ دوسری جانب  لاہور پولیس نے پی ڈی ایم کے زیراہتمام گزشتہ روز جین مندر کے علاقے میں ہونے والے احتجاج پر شرکاء کو سکیورٹی فراہم نہ کی، اس حوالے سے لاہور پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا چونکہ پی ڈی ایم حکام نے پولیس یا ضلعی انتظامیہ سے منعقدہ مظاہرے کی باقاعدہ اجازت نہیں لی تھی، جس کے باعث وہ مظاہرے کے شرکاء کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments