قرآن ایکٹ ، ختم نبوت کے حوالے سے متعلق قانون متفقہ طور پر پاس کیا ، نکاح نامے میں بھی ختم نبوت کا کالم شامل کرنا بہت ضروری ہے‘ پرویز الٰہی

بہت سے کیس سامنے شادی کے بعد دولہا قادیانی نکلا ،سدباب کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے ،شکوک و شبہات دور کر لیے جائیں‘ سپیکر نکاح نامہ فارم میں ختم نبوت کے حلف نامے کا کالم شامل کرنے سے متعلق خدیجہ عمر، باسمہ چودھری اور الیاس چنیوٹی کی مشترکہ قرارداد متفقہ منظور

بدھ 27 اکتوبر 2021 00:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2021ء) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے آغاز میں کہا کہ پنجاب اسمبلی نے قرآن ایکٹ اور ختم نبوت کے حوالے سے متعلق قانون متفقہ طور پر پاس کیا تھا، اب بہت سے ایسے کیس سامنے آ رہے ہیں کہ شادی کے بعد دولہا قادیانی نکلا اس کے سدباب کیلئے نکاح نامے میں بھی ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ نکاح ہونے سے پہلے ہی تمام شکوک و شبہات دور کر لیے جائیں۔

نکاح نامہ فارم میں ختم نبوت کے حلف نامے کا کالم شامل کرنے سے متعلق خدیجہ عمر، باسمہ چودھری اور مسلم لیگ ن کے مولانا الیاس چنیوٹی نے سپیکر پنجاب اسمبلی سے مشترکہ طور پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔

(جاری ہے)

قرارداد میں کہا گیا کہ ’’پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان حکومت پنجاب سے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم (قادیانی، احمدی وغیرہ) میں فرق واضح کرنے کیلئے نادرا فارم اور پاسپورٹ فارم میں مندرج حلف نامے کی طرز پر دی مسلم فیملی لاز آرڈیننس1961ء کے تحت وضع کیے ہوئے قواعد کے قاعدہ نمبر 8 اور 10 کے تحت مجوزہ نکاح نامہ فارم میں بھی ختم نبوت کا مندرجہ ذیل حلف نامے کے ساتھ واضح طور پر کالم شامل کیا جائے‘‘۔

یہ حلف نامہ یوں ہے ’’میں مسلمان ہوں اور نبی حضرت محمد ؐ کے آخری، حتمی اور غیر مشروط خاتم النبیین ہونے پر ایمان رکھتا/ رکھتی ہوں۔ میں ایسے کسی بھی شخص کو نہیں مانتا/ مانتی جو محمدؐ کے بعد لفظ ’’نبی‘‘ کی کسی بھی تشریح یا کسی بھی ممکنہ حوالے سے نبی ہونے کا دعویٰ کرے، یا نبوت کے ایسے مدعی کو نبی یا مذہبی مصلح، یا مسلمان ہی نہیں مانتا/ مانتی ہوں۔

میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی سمجھتا/ سمجھتی ہوں اور اس کے لاہوری یا قادیانی گروپ سے تعلق رکھنے والے پیروکاروں کو غیر مسلم سمجھتا/ سمجھتی ہوں‘‘۔ بعد ازاں اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرار داد کی بھر پور حمایت کرنے پر سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ، قرارداد کے محرک ارکان اسمبلی خدیجہ عمر، باسمہ چودھری اور ن لیگ کے الیاس چنیوٹی سمیت تمام اپوزیشن اور ارکان اسمبلی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا۔

قبل ازیں محکمہ محنت و انسانی وسائل کے وقفہ سوالات کو معطل کرتے ہوئے لیگی رکن نشاط احمد ڈاہا کی وفات کے باعث اجلاس کی کاروائی مختصر کی گئی۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان، ممبر قومی اسمبلی پرویز ملک، ممبر پنجاب اسمبلی نشاط احمد ڈاہا کی وفات اور رحیم یار خان میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے پنجاب اسمبلی میں دعا ئے مغفرت کی جبکہ سابق ایم پی اے پیٹر گل کی وفات پر ایوان میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

دوران اجلاس یونیورسٹی آف لاہور ترمیمی بل 2021، راشد لطیف خان یونیورسٹی بل 2021، دی پنجاب کیمونٹی سیفٹی میئرژ اِن سپورٹس اینڈ ہیلتھ کلبز اور دی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور 2021 بل ایوان میں متعارف کروا دئیے گئے۔ جس پر سپیکر نے تمام بلز متعلقہ کمیٹیوں کو ریفر کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments