پاکستان کو امید ہے جلد جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع اور مزید دس سال تک جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی مل جائے گا‘محمد سرور

پاکستان کے معاشی مسائل کے حل اور کاروباری برادری کے لیے بھی جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع ضروری ہے،باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک کے حوالے سے بھی پاکستانی موقف کی جیت ہوگی‘گورنر پنجا ب کا لاہور چیمبر میں اجلاس سے خطاب

بدھ 27 اکتوبر 2021 22:53

پاکستان کو امید ہے جلد جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع اور مزید دس سال تک جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی مل جائے گا‘محمد سرور
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اکتوبر2021ء) گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ انہوں نے جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع کے معاملے پر یورپ کا دس روزہ دورہ کیا ہے، امید ہے کہ توسیع کا معاملہ جلد ہوجائے گا اور پاکستان کو مزید دس سال تک جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی مل جائے گا۔ وہ لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اجلاس میں ایگزیکٹو کمیٹی اراکین بھی موجود تھے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ اپنے دورہ یورپ کے دوران انہوں نے چار نائب صدور سمیت یورپی پارلیمنٹ کے 30 سے زائد اراکین سے ملاقاتیں کیں جو ہر لحاظ سے کامیاب رہیں، یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی سمیت متعلقہ کمیٹیوں کے سربراہوں ، اٹلی کے اراکین اسمبلی، سینیٹرز، ہنگری اور آسٹریا کے وزراء سے بھی کامیاب ملاقاتیں ہوئی ہیں، توقع ہے کہ تمام ترسازشوں کے باوجود پاکستان جی ایس پی پلس سٹیٹس کا درجہ حاصل کرلے گا۔

(جاری ہے)

اس سے پاکستان کو سالانہ 4 ارب ڈالر سے زائد کے مالی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے پاکستانی معیشت کو 20 ارب ڈالر کا فائدہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ یورپ کے دوران سب نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کے حل اور کاروباری برادری کے لیے بھی جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک کے حوالے سے بھی پاکستانی موقف کی جیت ہوگی۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول کے لیے گورنر پنجاب کی کوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے کے تحت ڈیوٹیوں میں رعایات کی وجہ سے پاکستان کی یورپی یونین کے اراکین ممالک کو برآمدات آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو ہماری کل برآمدات کا تقریبا 32فیصد ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر نے توقع ظاہر کی کہ گورنر پنجاب کی یورپین یونین ممالک میں ملاقاتیں رنگ لائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر نے بھی پاکستان میں یورپین یونین کی سفیر کو مدعو کیا اور جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کے کنونشنز سے پوری طرح ہم آہنگ ہونے کے لیے قوانین کو بدلتے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، حکومت کو چاہیے کہ ایک لائحہ عمل تیار کرے اور کاروباری برادری کو سہولیات دے، کاروباری برادری حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا تیزی سے پھیل رہا ہے، اس حوالے سے اقدامات اٹھانا اور ملک کی ساکھ کو بہتر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تحت پاکستان کی ایکسپورٹس کا بیشتر حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہیں، لیدر، کارپٹ، فرنیچرسمیت دیگر شعبوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ چالیس فیصد ہے، جی ایس پی پلس سٹیٹس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس سیکٹر کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں گورنر پنجاب نے لاہور چیمبر کے صدر، نائب صدر اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کے ہمراہ نادرا ای سہولت سنٹر کا افتتاح کیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments