اولاد نرینہ نہ ہو تو باپ کا بیٹیوں کو جائیداد گفٹ کرنا انوکھی بات نہیں‘لاہور ہائیکورٹ

درخواست گزاروں کی چچا کی جانب سے چار بیٹیوں کو جائیداد گفٹ کرنے کے خلاف درخواست خارج

جمعہ 26 نومبر 2021 21:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2021ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اولاد نرینہ نہ ہو تو باپ کا بیٹیوں کو جائیداد گفٹ کرنا انوکھی بات نہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شان گل نے قاسم علی اور اس کے بھائیوں کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا۔

(جاری ہے)

درخواست گزاروں نے چچا کی جانب سے چار بیٹیوں کو جائیداد گفٹ کرنے کا اقدام چیلنج کیا تھا اور ان کا موقف تھا کہ چچا بیٹیوں کو اراضی گفٹ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اولاد نرینہ نہ ہونے کی صورت میں بھائیوں اور بھتیجوں کو جائیداد کی منتقلی روکنے کیلئے بیٹیوں گفٹ کر دینا انوکھی بات نہیں، جس معاشرے میں خواتین کو اپنا تحفظ خود کرنا ہو وہاں والد بہت کچھ کرتا ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ والد کا ایسا کرنا اختیاری نہیں بلکہ ضرورت ہے، والد کو موت کے بعد بیٹیوں کی بے دخلی کا ڈر رہتا ہے، خواتین کو وقار نہ ملے تو وہ مرد رشتہ داروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments