گھریلو صارفین کیلئے گیس کی بندش کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا

گھریلو صارفین اور تمام سیکٹرز کو گیس کی سپلائی جاری ہے، بوسیدہ پائپ لائنز کی بحالی کے کام کی وجہ سے گیس سپلائی میں مشکل آسکتی ہے۔ترجمان سوئی ناردرن گیس کمپنی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 27 نومبر 2021 16:40

گھریلو صارفین کیلئے گیس کی بندش کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 نومبر 2021ء) ترجمان سوئی ناردرن گیس کمپنی نے کہا ہے کہ گھریلو صارفین کیلئے گیس کی بندش کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا، گھریلو صارفین اور تمام سیکٹرز کو گیس کی سپلائی جاری ہے،بوسیدہ پائپ لائنز کی بحالی کے کام کی وجہ سے گیس سپلائی میں مشکل آسکتی ہے۔ انہوں نے صارفین کی جانب سے گیس کی بندش اور گیس پریشر کم ہونے کی شکایات پر اپنے بیان میں کہا کہ سردی کی وجہ سے گیس کی طلب بڑھ گئی ہے، اس کے باوجود سب سیکٹرز کو گیس کی ترسیل جاری ہے۔

شہر میں گیس لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی، شہر میں گھریلو صارفین کو بھی گیس کی سپلائی جاری ہے، گھریلو صارفین کیلئے گیس کی بندش کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا، شہر میں بوسیدہ پائپ لائنز کی بحالی کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے ٹیل اینڈ صارفین کو گیس سپلائی میں مشکل آسکتی ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں صارفین نے گیس کی بندش اور گیس پریشر کم ہونے کی شکایات کی ہیں۔

رانا ٹاوٴن، اتفاق ٹاؤن ، سمن آباد، ہربنس پورہ، سبزہ زار، گرین ٹاؤن، ساندہ ، اچھرہ اور اندرون لاہور میں دن کے مختلف اوقات میں گیس کی بندش اور گیس پریشر کم ہوتا ہے۔ دوسری جانب سندھ میں گیس بحران سنگین ہوگیا پے جس کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قلت کے پیش نظر جنرل انڈسٹریز کے تمام نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی فوری بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سوئی سدرن گیس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے تمام نان ایکسپورٹ جنرل انڈسٹریز کے نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی فوری بند کردی گئی ہے ، گیس سپلائی معاہدے کے تحت گیس کی فراہمی بند کی جاسکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق دسمبر سے فروری تک گیس سپلائی کے مسائل ہوتے ہیں، نان ایکسپورٹ نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی اگلے احکامات تک بند رہے گی۔ سوئی سدرن گیس نے مزید بتایا کہ برآمدات کرنے والی صنعتوں کے بجلی گھروں اور فرٹیلائزر سیکٹر کو گیس سپلائی بحال رہے گی، سوئی سدرن گیس کو لائن پیک میں شدید کمی کا سامنا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>