گزشتہ ادوار میں472 ارب مالیت کی دو لاکھ تئیس ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر بلا خوف و خطر قبضے کیے گئے‘ حسان خاور

2018ء سے اب تک ایک لاکھ اٹھاسی ہزار ایکڑ اراضی واگزار کروائی جا چکی ہے‘ ترجمان پنجاب حکومت کی پریس کانفرنس

ہفتہ 27 نومبر 2021 23:46

گزشتہ ادوار میں472 ارب مالیت کی دو لاکھ تئیس ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر بلا خوف و خطر قبضے کیے گئے‘ حسان خاور
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 نومبر2021ء) معاون خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے گزشتہ ادوار میں سرکاری اراضی کو کمزور ترین ہدف سمجھتے ہوئے محکمہ جنگلات، اوقاف، محکمہ مال سمیت دیگر محکمہ جات کی 472 ارب مالیت کی دو لاکھ تئیس ہزار ایکڑ سرکاری اراضی پر بلا خوف و خطر قبضے کیے گئے، اس میں سے سات ہزار ایکڑ اراضی شہری جبکہ تقریباً دو لاکھ سولہ ہزار دیہی علاقوں میں تھی،2018 سے وزیراعظم عمران کی خصوصی ہدایات پر قبضہ شدہ سرکاری کی نشاندہی کا عمل شروع کیا گیا، اور اب تک اس میں سے ایک لاکھ اٹھاسی ہزار ایکڑ اراضی واگزار کروائی جا چکی ہے، واگزار شدہ اراضی میں سے چار ہزار ایکڑ شہری جبکہ باقی دیہی اراضی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے الحمرا لاہور میں قبضہ مافیا سے واگزار شدہ اراضی کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واگزار شدہ اراضی متعلقہ محکموں کے حوالے کی جائے گی اور اس اراضی کو عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر بقایا 35 ہزار ایکڑ رقبہ اگلے پانچ ہفتوں میں واگزار کرایا جائے گا۔

حسان خاور نے کہا کہ سرکاری اراضی پر قبضہ حکومتی اراکین، سرکاری اہلکاروں اور قبضہ مافیا کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ قبضہ مافیاز ان قبضوں کو مستقل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ایجرٹن روڈ پر ریکارڈ جلانے کے لیے ایک عمارت کی آتشزدگی اور جان بچانے کے لیے لوگوں کے عمارت سے چلانگیں لگانے کے مناظر عوام آج تک نہیں بھول سکی۔

سب جانتے ہیں کہ ریکارڈ چھپانے کے لیے کتنی دفعہ سرکاری محکموں میں آگ لگائی گئی۔ گزشتہ دور حکومت میں آتشزدگیوں کی فارینزک رپورٹ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا کہ یہ دو لاکھ تئیس ہزار قبضے دراصل گزشتہ حکومت کی نااہلی کی رسیدیں ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے تین سال کے قلیل عرصے میں دہائیوں کا گند صاف کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومتی نیت صاف ہو تو سسٹم کا موثر نفاذ یقینی بنانا مشکل نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا گو کہ قبضہ مافیا میں 43 لوگ گزشتہ حکومت کے وزرا اور اراکین اسمبلی شامل ہیں، لیکن قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی کو سیاسی انتقام کا نام دیا جانا درست نہیں۔ یہ اقدامات عوامی فلاح، حکومت اور قانون کی رٹ قائم کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں جو سرکاری اہلکاران قبضہ گروپوں کے ساتھ ملوث پائے گئے، انہیں شریکِ جرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کاروائی بھی کی جائے گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments